تبليغاتX
معصومین
سماجی،سیاسی،علمی،مذہبی تحریروں کا مجموعہ
 

باسم ربّ شہدأ

کربلا میں امام حسین - نے اپنے اعزا ٔ اور اقربا ٔ کی قربانی پیش کرنے کے بعد جو استغاثہ بلند فرماکر اپنے چاہنے والوں کو اپنے مشن کی نصرت کے لئے بلایا تھاوہ آج بھی فضاؤں میں گونج رہا ہے ، جنگوں میں اپنے چاہنے والوں سے مدد طلب کرنا عام بات ہے مگر یہ مدد یا تو جنگ سے پہلے طلب کی جاتی ہے یا پھر اُس وقت کی جاتی ہے جب جنگ شکست کے قریب پہنچ جائے ،لیکن کربلا میں امام حسین- کا استغاثہ نہ تو جنگ سے پہلے تھا اور نہ ہی اس خدشہ میں تھا کہ جنگ میں شکست ہورہی تھی ، اگر ہم ایسا سوچ لیں تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ سب کی شہادت کے بعد مدد طلب کرکے امام حسین- صرف اپنی جان بچانا چاہتے تھے باقی کسی کی جان کی آپ کو پرواہ نہ تھی ﴿نعوذ باللہ﴾ امام حسین -اپنے یاور و انصار کی شہادت کے بعد استغاثہ بلند کرکے ہمیں بہت ہی اہم زندگی ساز پیغام دے رہے تھے، اسی لئے امام عالی مقام کا یہ استغاثہ صرف کربلا کے میدان میں روز عاشور تک محدود نہ تھاآج بھی امام کا استغاثہ ہمیں اُس مقدس مشن کی مدد کے لئے آواز دے رہاہے جس کی داغ بیل امام حسین- نے کربلا میں ڈالی تھی ،اگر ایسا نہ ہوتا تو ائمہ٪ کے اقوال کی روشنی میں یہ مفہوم نہ ہوتا کہ’’ ہر زمین کربلا ہے اور ہر روز عاشور ہے‘‘یعنی جس سرزمین پر جب بھی یزیدیت سر ابھارے اور اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچائے تو وہ سرزمین ،کربلا اور وہ دن عاشور کا دن ہوگا ، جب بھی ایسا ہو تو ہر حسینی کا فرض ہے کہ وہ امام حسین- کے استغاثے کا جواب ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ کی شکل میں دے کر یزیدیت سے مقابلہ کے لئے نکل پڑے ،ایسا کرناہر مسلمان پر انفرادی اور اجتماعی طور پر فرض ہے .

               اسلام نے معاشرے کے انفرادی ﴿ایک فرد﴾ اور اجتماعی﴿سماجی﴾ مفادات کے تحفظ کی تاکید کی ہے ،اسی لئے ہر فرد پر یہ دونوں ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،اگر اجتماعی امور کی انجام دہی کے لئے زمین ہموار نہ ہو تو صرف انفرادی   ذمہ داری ہی عائد ہوتی ہے ،ارشاد الٰہی ہے : اے ایمان والو! تم اپنے نفس کی فکر کرو ،اگر تم ہدایت یافتہ رہے توگمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی﴿1﴾ اور جب اجتماعی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لئے حالات سازگار ہوں تو اس وقت انسان پر فرض ہے کہ وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کوبھی انجام دے، حضور اکرم کا ارشاد ہے : تم میں سے ہر ایک پر اجتماعی مسئولیت عائد ہوتی ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے﴿2﴾ ،دین اسلام نہ تو کیپٹل ازم کی طرح صرف انفرادی مفادات کی بات کرتا ہے اور نہ ہی کمیونزم کی طرح صرف اجتماعی مفادات کی ضمانت فراہم کرتا ہے بلکہ حالات کے مطابق دونوں ذمہ داریاں ضروری ہیں .

                امام حسین - کی امامت کا زمانہ ایسا ہی تھا جس میں مسلمانوں پر انفرادی اور اجتماعی دونوں ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں ،چونکہ بنی امیہ کی سیاست نے معاشرے کو انفرادی اور اجتماعی طور پربرباد کر کے رکھ دیا تھا ، ان کے ذریعہ پھیلائے گئے قبائلی اور خاندانی تعصب اورقبیلہ پرستی نے مسلمانوں کو ان مقاصد تک پہنچنے ہی نہ دیا جن تک جانے کی اسلامی تعلیمات نے ترغیب دلائی تھی ،بلکہ مسلمان قبائلی حدود میں بند چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھتے رہے لہٰذا اس سیاست نے مسلمانوں کو انقلابی عمل سے باز رکھا اور محرومیت و نکبت کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ،دوسری جانب بنی امیہ نے ’مرجئہ ‘ فرقے کے گمراہ عقیدے کو اپنی غیر اسلامی سیاست کو مذہبی رنگ دینے کے لئے استعمال کیا اور اس عقیدہ کی ہر سطح پر حمایت کی اور لوگوں میں رائج کردیا،جسے آج تک مسلمان سینے سے لگائے ہوئے ہیں،اس کی بنیاد پر بنی امیہ بالخصوص معاویہ لوگوں کو یہ سمجھاتے تھے کہ حکومت کا وجود اور اس کے کارنامے چاہے کتنے ہی غیر اسلامی اور ظالمانہ کیوں نہ ہوں تقدیر الٰہی ہیں اور کسی بھی صورت میں تغیر و تبدل کے لائق نہیں ہیں لہٰذا بنی امیہ کی حکومت کی مخالفت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ،اس گمراہ عقیدے سے معاویہ نے بہت فائدہ اٹھایا اور اپنی تمام بد اعمالیوں کو تقدیر الٰہی کا نام دے کر حکومت کرتا رہا اور لوگوں کو یہ باور کراتا رہا کہ میں اسلامی خلیفہ ہوں اور کیسا ہی گناہ کیوں نہ انجام دے لوں مقام خلافت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ، در اصل مرجئہ فرقہ کا عقیدہ یہ تھا کہ اچھے اور برے اعمال میں بندہ کو اختیار نہیں ہے بلکہ ہر خیر و شر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے﴿نعوذ باللہ﴾ اسی طرح اموی سیاست کے تیسرے ستون یعنی ’’مذہب ہی کو مذہب کے خلاف استعمال کرنے ‘‘ سے اس وقت کے اسلامی معاشرے کو کتنا نقصان پہنچا اس کا اندازہ اس کے انفرادی ، اجتماعی اور دینی مخدوش حالات سے بخوبی ہوجاتا ہے کہ کس طرح مسلمان اس پر اعتراض کرنے اور حالات کو درست کرنے کے لئے کوشش کرنے سے کتراتے تھے جس کے نتیجے میں معاشرے کے ضمیر میں گناہ کا شعور ہی مردہ ہوگیا تھا ،جبکہ یہی شعورِ گناہ اگر زندہ ہوتا تو ایک انقلاب کے لئے بنیاد بن سکتا تھا اور جب یہ شعور مردہ ہوجاتا ہے تو معاشرے پر موت کی سی خاموشی چھا جاتی ہے لہٰذا وہ مسلمان جو پوری انسانیت کا درد سینے میں رکھتے تھے اور دوسروں کے دکھ درد کو کم کرنے کے لئے ہمیشہ سعی و کوشش میں لگے رہتے تھے ان کو اس اموی سیاست نے قبیلہ پرست بناکر اپنے ہی قبیلے کے محدود دائرے میں مقید کردیا تھا اور عیناً زمانہ جاہلیت کی طرح قبائلی اور خاندانی اختلافات تک محدود ہوکر رہ گئے تھے ،ان کی شخصیتیں قبائلی چہاردیواری سے باہر نکل کر دوسرے میدانوں میں نہ ابھر سکیں ،دور جاہلیت میں بھی یہی چیز کار فرما تھی جو بنی امیہ کے دور اقتدار میں دوبارہ زندہ ہوگئی تھی ، جس کی طرف معروف اہل سنت دانشور اور عالم مولانا ابوالحسن علی ندوی نے یوں اشارہ کیا ہے :’’ دنیا کی بدقسمتی تھی کہ خلفائے راشدین کے بعد دنیا کی راہنمائی کے منصب جلیل پر وہ لوگ ﴿بنی امیہ﴾ حاوی ہوگئے تھے جنھوں نے اس کے لئے کوئی حقیقی تیاری نہیں کی تھی ،خلفائے راشدین کی طرح اور خود اپنے زمانے کے بہت سے مسلمانوں کی طرح انہوں نے اعلیٰ دینی اور اخلاقی تربیت نہیں پائی تھی ،ان کا دینی ،روحانی اور اخلاقی معیار اتنا بلند نہ تھا جو ملت اسلامیہ کے راہنماؤں کے شایان شان ہے ،ان کے ذہن اور طبیعتیں عرب کی قدیم تربیت اور ماحول ﴿دور جاہلیت ﴾ سے بالکلیہ آزاد نہیں ہوئی تھیں﴿3﴾ لہٰذا جب اموی خاندان کے فاسق و فاجر یزید بن معاویہ نے اسلام سے انسانی اقدار کو نکال پھینکا اور اسلام کو ایک خاص ٹولے کے مفاد میں استعمال کرنے لگا تو امام حسین- نے اسلام کادفاع کیا اور انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کردیا ،البتہ یہ کام اتنا آسان نہ تھا اس راہ میں امام حسین - اور آپ کے ساتھیوں نے اپنا سب کچھ قربان کرکے اسلامی معاشرے کو وہ جرأت عطاکردی کہ پھر کبھی کسی ظالم کے سامنے مسلمان خاموش نہیں رہے اور انقلاب کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ، امام حسین -کے اس انقلاب کو ’’حسینی انقلاب‘‘ کہاجاتا ہے ،حسینی انقلاب میں محبت و ہمدردی اور ایثار و فدا کاری کا بے مثال نمونہ پیش کیا گیا ہے ،یہ محبت و ہمدردی جلادوں اور قاتلوں تک کے ساتھ بھی تھی جن کو ظالم حکمران نے دھوکہ دے کر ان شخصیتوں کے ساتھ لڑنے بھیجا تھا جو خود انہی کی بھلائی چاہتی تھیں اور ان جانبازوں نے اس محبت کا مظاہرہ روز عاشور آپس میں بھی کیا جو موت کی طرف ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے تاکہ اپنے ساتھی کے قتل کا منظر دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہیں ،ان کے مقابلہ میں یزیدی لشکر تھاجو بدترین کینے اور عداوت کا مظاہرہ کررہاتھا ،جس نے حسینی جانبازوں اور ان کے کمسن بچوں کو پانی تک سے محروم رکھا اور عورتوں اور بچوں تک کا خون بہانے سے باز نہیں آیا جس سے ہر انسان کا دل کانپ جاتا ہے اور اسی چیز نے اس انقلاب پر لکھنے اور بولنے والوں کی توجہ اپنی طرف اس طرح مبذول کرائی کہ انہوں نے اس انقلاب کے صرف انہیں واقعاتی پہلوؤں پر اپنی توجہ مرکوز کردیں ،حالانکہ حسینی انقلاب میں تعلیم و تربیت ، اخلاق و کردار ، ایثار و فدا کاری کی بے شمار خصوصیات موجود ہیں بلکہ یہ انقلاب ایک درسگاہ ہے جو صرف واقعات تک محدود نہیں ہے ،دنیا میں اب تک بے شمار انقلاب آچکے ہیں لیکن جو اثر سن 61ہجری میں عراق کے شہر کربلا میں رونما ہونے والے حسینی انقلاب کا ہے وہ کسی کا نہیں ہے ، حسینی انقلاب کی یاد ہر سال محرم میں دنیا کے گوشہ گوشہ میں منائی جاتی ہے ،دنیا میں رونما ہونے والے دیگر انقلابوں کا مقصد اقتدار پر قبضہ ہوتا ہے لیکن حسینی انقلاب میں اقتدار پر قبضے کی کوئی خواہش کسی کو نہ تھی اگر چہ خلافت و اسلامی حکومت قطعی طورسے امام حسین -کا حق تھا جسے یزید غصب کئے بیٹھا تھا ، حسینی انقلاب نے تمام انصاف پسندوں کو اپنا گرویدہ بنالیا ہے اور باشعور لوگ اس انقلاب سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں ،اس انقلاب نے تمام حریت پسندوں کے دلوں میں اس طرح جوش و ولولہ بھردیا ہے جس سے وہ ہر بڑی طاقت کے مقابلے پہ آجاتے ہیں ،چاہے گاندھی جی کی قیادت میں ہندوستان کا انقلاب آزادی ہو ،یا پھرامام خمینی کی قیادت میں ایران کا اسلامی انقلاب ہو اور یا سپر پاور امریکہ کوانگلیوں پر نچانے والے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مزاحمت ہو سبھی میں حسینی انقلاب کے اثرات نمایاں ہیں ،غرض حسینی انقلاب کے بعد دنیا میں ظالم و جابر حکمرانوں اور حکومتوں کو ہمیشہ انقلاب کا ڈرلگا رہتا ہے .

               امام حسین -کا یہ عظیم انقلاب کسی شخص ،گروہ خاندان اور حکومت کے خلاف نہیں تھا بلکہ یہ انقلاب اُن سماجی برائیوں کے خلاف تھا جنہوں نے اسلامی معاشرے کے تانے بانے ادھیڑکر رکھ دیئے تھے ،جس کا ذمہ دار اموی خاندان اور پشت پناہ بنی امیہ کی حکومت تھی جس کے پُر تشدد ،دباؤ اور استحصالی سیاست نے لوگوں کے دلوں سے جذبۂ آزادی کو ختم کرکے رکھ دیا تھا.

               جس دن سے شام پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا تھا شام والوں نے ’’خالد بن ولید‘‘ اور ’’معاویہ بن ابی سفیان‘‘ جیسے حاکموں کو دیکھا تھا ، شام والے نہ تو پیغمبر اسلام  کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تھے اور نہ ہی اصحاب پیغمبر کی روش سے آشنا تھے اور نہ پیغمبر کے اہل البیت ٪ کو جانتے تھے اور نہ مدینہ میں رائج اسلام کے بارے میں کچھ خبر رکھتے تھے ، البتہ تاریخ میں 113اصحاب پیغمبرکی تعداد ضرور ملتی ہے کہ جو ،یا تو سرزمین شام کو فتحہ کرنے میں شریک تھے یا آہستہ آہستہ وہاں مقیم ہوگئے تھے ان میں بھی اکثر ایسے تھے جنہوں نے بہت کم وقت حضور(ص) کی صحبت میں گزارا تھا ان میں سے اکثر معاویہ کے زمانے میں مرچکے تھے اور امام حسین- کے انقلاب کے زمانے میں صرف 11افراد باقی تھے جن کی عمریں 70سے 80سال کے درمیان تھیں جو بڑھاپے کی وجہ سے گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے تھے ،اس لئے عوام میں ان کا کوئی نفوذ اور اثر نہیں تھا لہٰذا شام کی وہ جوان نسل جو یزید کی ہم عمر تھی محمدی (ص)اسلام سے بے خبر اور نابلد تھی ان کی نظر میں بنی امیہ کی روش اور طرز حکومت ہی اسلام تھا ، اسی لئے معاویہ کے ٹھاٹ باٹ ، لوگوں کے مال پر زبردستی قبضہ ، بڑے بڑے محلوں کی تعمیر ات ، مخالفوں کو قید کرنا،شہر بدر کرنا یا قتل کرنا شامیوں کی نگاہ میں کوئی جرم نہ تھا کیونکہ انہوں نے 50سال تک بنی امیہ کے ذریعہ مذکورہ تمام غیر اسلامی افعال کو بنام اسلام انجام دیتے دیکھا تھا ، غرض اہل شام معاویہ کے افعال و کردار کو ہی اسلام سمجھتے تھے ،اسی لئے جب رجب 60ہجری میں معاویہ کے انتقال کے بعد یزید کو حکومت اسلامی کی باگ ڈور سونپ دی گئی تو شامیوں نے قطعاً اعتراض نہ کیا بلکہ بخوشی یزید کی حاکمیت کو قبول کرلیا جبکہ یزید کا کردار سب پر آشکار تھا، جس سے اُس زمانہ کے اسلامی سماج کی  بے حسی کا اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح بنی امیہ نے لوگوں کو بزدل بنادیا تھا جو اپنے اوپریزید جیسے فاسق و فاجرحاکم کو مسلط کرلینے پر آمادہ ہوگئے تھے .

                یزید کے بارے میں سب کو معلوم تھا کہ اُس کی پرورش ایک عیسائی عورت کی گود میں ہوئی ہے ،کیونکہ یزید کی ماں ’’میسون بنت بجدل کلبی ‘‘عیسائی قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی اور وہ بھی صحرا نشین !اور اس کا شمار شام کی معروف عورتوں میں ہوتا تھا ، یزید کا حمل ٹھہرنے کے بعد میسون کو معاویہ نے ایک شعر پڑھتے ہوئے سنا جس میں معاویہ اور اس کے قصر کی تمام زیبائی اور خوبصورتی نیز شام کی آب و ہوا کی مذمت اور اپنے دیہات کی جھونپڑی ، وہاں کی آب و ہوا ، گلہ گوسفند میں رہنے والے اپنے چچا زاد بھائی کی مدح سرائی کی تھی ،معاویہ نے یہ شعر سن کر میسون کو طلاق دے دی ، وہ حاملہ اپنے گاؤں چلی گئی جہاں پر یزید کی ولادت ہوئی ، ولادت کے بعد یزید کو ایک عیسائی عورت کے سپرد کردیاگیا جو قبیلہ طائف سے تعلق رکھتی تھی ، برے اور قبیح کام اس کے معمول تھے ﴿4﴾ ،تربیت کا دوسرا دور وہ ہوتا ہے جب بچہ استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتا ہے ،اس موقع پر یزید کے لئے جس استاد اور اتالیق کا انتظام کیا گیا وہ بھی شام کا عیسائی تھا ﴿5﴾اس کے علاوہ روم کے عیسایئوں سے بنی امیہ کے بڑے اچھے تعلقات تھے جس کی بنائ پر روم کے عیسایئوں نے اموی دربار میں کافی نفوذ کرلیا تھا ،اسی لئے یزید کے درباری مشیر بھی عیسائی تھے ،جب یزید کو یہ اطلاع ملی کہ امام حسین- عازم کوفہ ہوچکے ہیں تو یزید نے اپنے ایک عیسائی مشیر ’’سرجون‘‘رومی کے مشورہ پر کوفہ سے نعمان بن بشیر کو ہٹا کر عبیداللہ بن زیاد کو گورنر بناکر بھیج دیا تھا﴿6﴾ چونکہ ابن زیاد اہل بیت٪رسول (ص) سے شدیدعداوت رکھتا تھا لہٰذا اس نے آل رسول (ص) کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا ،اسی طرح یزید کا وزیر خزانہ اورمنشی بھی دمشق کا عیسائی ’’منصور بن سرجون‘‘ تھا ﴿7﴾اس کے علاوہ یزید کا درباری شاعر ’’اخطل‘‘ بھی عیسائی تھا اور یزید نے اسی عیسائی شاعر سے انصار کی ہجو﴿مذمت﴾ کرائی تھی ﴿8﴾اور یزید نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لئے جس معلم اور اتالیق کا انتظام کیا تھاوہ بھی عیسائی تھا ﴿9﴾ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ یزید کی زندگی بگڑی ہوئی عیسائیت کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکی جس کا اظہار یزید کے اشعار سے بخوبی ہوجاتا ہے:

                رسومات حج میں سے ایک رسم ’’ہرولہ‘‘ ہے اس کی توہین کرتے ہوئے یزید اپنے اشعار میں کہتا ہے : ’’میرا سورج انگور سے ہے اور اس سورج کا برج صراحی میں شراب کی گاد ہے ،﴿یہ سورج﴾مشرق سے دست ساقی سے طلوع کرتا ہے اور مغرب میں میرے منھ میں جاکر غروب ہوجاتا ہے ،اور جب صراحی سے جام میں شراب پلٹی جاتی ہے تو اُس کی آواز ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے حجاج حج میں دیوار کعبہ اور زمزم کے درمیان ہرولہ میں مشغول ہوں ،پس اگر دین احمد میں ﴿شراب پینا ﴾حرام ہے تو تم اسے دین مسیح بن مریم کے نام پر لے لو اور پی جاؤ‘‘﴿10﴾﴿جبکہ دین مسیح میں بھی شراب حرام تھی ،مگر بگڑی ہوئی عیسائیت نے شراب کو جائز کرلیاتھا﴾ ،اسی طرح کے دیگر اشعار میں یزید اپنے فاسد عقائد کا اس طرح اظہار کرتا ہے : اے میرے ہم پیالہ دوستو! اٹھو اور اچھی آوازوں والے گانے سنو ،شراب کے پیالے پے در پے پی جاؤ اور معنوی ذکر﴿یاد ِقرآن﴾ کو چھوڑ دو‘‘گانے کی آوازیں مجھے اذان کی آوازسننے سے روک لیتی ہیں ،میں نے جنت کی حوروں کے بدلے﴿جو کہ ادھار ہیں کیونکہ ان کا وعدہ ہی تو کیا گیا ہے ﴾ پرانی شراب کے جام ﴿جو کہ نقد ہیں ﴾کو انتخاب کیا ہے‘‘﴿11﴾

               یزید کو نہ تو اسلامی حکومت کے امور میں دلچسپی تھی اور نہ ہی اسے ارکان حکومت سے کوئی ہمدردی تھی ،ایک سال معاویہ نے سفیان بن عوف غامدی کی سربراہی میں رومیوں سے جنگ کے لئے ایک لشکر ترتیب دے کر قسطنطنیہ روانہ کیا اور یزید کو بھی ساتھ بھیجا ،یزید اِس سفر میں اپنی محبوبہ ’’ام کلثوم بنت عبداللہ بن عامر کریز ‘‘ کو ساتھ لے گیا ،سفیان تو لشکر لے کر روم تک پہنچ گیا لیکن یزید دمشق کے نزدیک عیسائیوں کے ’’دیرمراں‘‘ میں اپنی محبوبہ کے ساتھ ٹھہر گیا اور عیش و عشرت میں مشغول ہوگیا ،اُس زمانے میں عیسائیوں کے دیر موج مستی کے اڈے ہوا کرتے تھے ،اُدھر اسلامی لشکر میں بُری آب و ہوا کے اثر سے ’’ غد قدونہ‘‘ کے مقام پر چیچک اور بخار پھیل گیا ،یزید کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو اس نے یہ شعر کہا: مجھے کوئی خوف نہیں ہے کہ مسلمان سپاہی ’’غدقدونہ‘‘ میں چیچک میں مبتلا ہوکر مرجائیں جب کہ میں تو دیر مران کے کمروں کے درمیان نرم گاؤ تکیوں پر تکیہ کئے بیٹھا ہوں اور ام کلثوم میری بغل میں ہے‘‘﴿12﴾بنی امیہ کے پروپیگنڈے سے متاثر بعض نادان مسلمان یزید کی مغفرت کے سارٹیفکٹ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرتے پھرتے ہیں جس میں اسی قسطنطنیہ کی جنگ کا حوالہ دیتے ہیں ،حالانکہ یزید قسطنطنیہ تک پہنچا ہی نہیں اور اگر پہنچ بھی جاتا اور جنگ میں شریک بھی ہوجاتا تو اس کا یہ عمل قیامت تک کے لئے گارنٹی نہیں بن سکتا تھا کیونکہ قسطنطنیہ کی جنگ کے بعد خلافت سنبھالتے ہی یزید نے تین بڑے گناہ ایسے انجام دیئے ہیں کہ جن کی پاداش اسے جہنم کے سخت عذاب کی شکل میں ضرور ملے گی ، یزید کی عیسائیت نوازی یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ یزیدنے حکومت سنبھالنے کے بعد روم کے دو جزیروں سے مسلمان سپاہیوں کو ہٹا کر اسلامی قبضہ ختم کراکے عیسائیوں کو ہمیشہ کے لئے مطمئن کردیا ،یزید کے اس اقدام کو عیسائیت نوازی اور اسلام دشمنی ہی سے تعبیر کیاجاسکتا ہے ،محقق عصر مولانا محمد عبدالرشید نعمانی نے ابن کثیر کی کتاب بدایہ والنہایہ اور تاریخ طبری کے حوالے سے اس بارے میں لکھا ہے کہ : ’’ حضرت معاویہ کے دور حکومت میں 53 ہجری میں جزیرۂ’’روڈس‘‘ فتح ہوا اور وہاں مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی قائم کردی گئی ،اس چھاؤنی کی وجہ سے بحر روم میں عیسائی فوجوں کی نقل و حرکت خطرہ میں پڑ گئی تھی ،امیر معاویہ ان مجاہدین اسلام کا بڑا خیال رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی مدد پر کمر بستہ رہتے تھے مگر ان کے نالائق بیٹے نے سب سے پہلے کام یہ کیا کہ ان مجاہدین کو اس جزیرہ سے منتقلی کے فوری احکام بھیجے ،آخر وہ بیچارے پیچھے سے رسد اور کمک منقطع ہوجانے کے ڈر سے شاہی حکم کے مطابق ’’روڈس‘‘ کو خالی کرکے اپنی زمین جائداد ،کھیت اور باغات کو خیر باد کہہ کر بادل نا خواستہ وہاں سے چلے آئے اور یوں بغیر لڑے بھڑے مفت میں یہ مسلمانوں کا مفتوحہ جزیرہ نصاریٰ ﴿عیسائیوں﴾ کے ہاتھ آگیا ، اسی طرح54 ہجری میں مسلمانوں نے قسطنطنیہ کے قریب جزیرہ ’’ارواد‘‘ فتح کیا تھا وہاں بھی مسلمان سات سال تک قابض رہے مگر یزید کو وہاں بھی مسلمانوں کا قبضہ ایک آنکھ نہ بھایا اور اپنے دورِ حکومت کے پہلے ہی سال میں مسلمانوں کو وہاں سے واپسی کا حکم دے کر بلوالیا ﴿13﴾معاویہ نے یزید کے بعض کرتوت تو اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے پھر بھی ایسے نالائق کو امت مسلمہ پر مسلط کرنا !اور شامیوں کا بے چوں و چرا اپنا حاکم مان لینا شامیوں اور دوسرے مسلمانوں کی بے حسی ، بزدلی اور بنی امیہ کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کو بیان کرتا ہے ،امام حسین- اسلامی معاشرے سے اسی بزدلی اور بے حسی کے ساتھ بنی امیہ کے چالیس سالہ پروپیگنڈے کو بے اثر کرنا چاہتے تھے تاکہ شام کے ہر گھر میں یہ پیغام پہنچ جائے کہ رسول اللہ (ص) کے حقیقی وارث اہل البیت٪ ہیں نہ کہ بنی امیہ .

               بہر حال یزید کااسلام کے ساتھ رابطہ بہت کمزور تھا ،وہ جس اسلام کے نام پر حکومت کررہا تھا اسی کو پامال کررہاتھا ،یزید برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی ایک ہوس پرست آدمی تھا اور اس کے دل میں جو خواہش ابھرتی تھی وہ اسے پورا کرلیتا تھا ،حد سے زیادہ خواہش پرستی کی وجہ سے وہ کسی بھی طرح تقویٰ اور زہد کا مظاہرہ بھی نہیں کرسکتا تھا اور اس قدر گناہ اور معصیت سے آلودہ ہوچکاتھا کہ یہ بات سب پر پوری طرح عیاں ہوگئی تھی کہ یہ مقام خلافت کا اہل نہیں ہے اور یہ چیز امام حسین- کے انقلاب کے لئے بہترین مجوز تھی کیونکہ اموی حکومت کے حامیوں کے لئے اس صورت میں ممکن ہی نہ رہاتھا کہ انقلاب امام حسین- کو رائے عامہ کے سامنے ’’اقتدار کی جنگ ‘‘یا ’’خطائے اجتہادی ‘‘کے طور پر پیش کرسکیںجب کہ معاویہ کے ہر گناہ پر بنی امیہ ’’خطائے اجتہادی‘‘ کا لیبل چسپاں کردیتے تھے ، یہ چیز لوگوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہوچکی تھی کہ اس وقت یزید کی ناپاک سیرت کے مقابلہ میں انقلاب کا شرعی جواز موجود ہے ،یزید کی وہ سیرت جو کسی بھی اعتبار سے دینی نہ تھی ،لہٰذا دین کی حمایت اور بنی امیہ کے ظلم سے مسلمانوں کو نجات دینے کے لئے حسینی انقلاب کو اب ہر شخص قبول کرسکتا تھا ،حالانکہ امام حسین - اسلامی معاشرے کی اس بزدلی کی وجہ سے فکر مند بھی تھے جس نے یزید کی مذکورہ نصاریٰ دوستی اور اسلام دشمنی کے باوجود اُسے اپنے حاکم کے طور پر قبول کرلیا تھا ،امام حسین- سماج کی اس بزدلی اور جمود کو توڑنا چاہتے تھے اور اسلامی سماج کو ایسا دیکھنا چاہتے تھے جو متحرک ،بیدار اور فعال ہواور آئندہ کبھی ایسے بدکرداروں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کردے ، اسی لئے امام حسین- نے خوب سوچ سمجھ کر قیام و انقلاب کا منصوبہ تیار کیا تھا اوراس سے پہلے کہ آپ باقاعدہ طور پر قیام کا اعلان فرماتے معاویہ کے انتقال کے فوراًبعد یزید نے بیعت کا مطالبہ کرڈالا ،یعنی یزید چاہتا تھا کہ امام حسین- کو مجبور کردے کہ وہ بھی معاشرے کے دیگر افراد کی ماننداموی حکومت اور خود یزید کے تمام فسق و فجور اور ظلم و زیادتی پر خاموش رہیں ،اور زبان نہ کھولیں ! یزید کی جانب سے بیعت کا مطالبہ حسینی انقلاب کی اصل وجہ نہیں ہے اور نہ ہی اہل کوفہ کے خطوط کو قیام امام حسین -کا سبب قرار دیا جا سکتا ہے ،یہ دونوں وجہیں جزئی طور پر حسینی انقلاب میں موثر واقع ہوئی ہیں ،یزید کے مطالبہ بیعت سے پہلے ہی امام حسین- اموی سیاست و حکومت پر اعتراض اور مخالفت کرچکے تھے ،تاریخ کی کتابوں میں امام حسین- کی بہت سی تقریریں اور خطوط موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت بنتے ہیں ،اسی طرح اہل کوفہ کے خطوط بھی امام حسین- کے انکار بیعت کے ڈیڑھ ماہ بعد ان کے پاس آنا شروع ہوئے اور اس سلسلہ کا پہلا خط عبداللہ بن سبع ہمدانی اور عبداللہ بن دال آپ کے پاس 10 رمضان 60ہجری کو مکہ میںلے کر آئے﴿14﴾ اگر اہل کوفہ کی دعوت امام کے قیام کا اصل سبب ہوتی تو آپ کوفہ کے حالات سے آگاہ ہونے کے بعد اپنا سفر جاری نہ رکھتے ،اس کے برخلاف ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسین- نے حضرت مسلم کی شہادت اور کوفیوں کی دغا کے بارے میں خبریں سن کر پہلے سے زیادہ پُرجوش خطبے دیئے اور تقریریں کیں ،کیونکہ امام حسین- کامقصد یزید کی غیر اسلامی روشِ حکومت کے خلاف انقلاب برپا کرنا تھا ،جس سے اسلامی معاشرہ منکرات اور فساد و آلودگیوں میں جکڑ گیا تھا، جس کا سرچشمہ یزید کی حکومت تھی ،لہٰذا ایسی صورت میں امام حسین- یزید کی حکومت کے خلاف انقلاب برپا کرنے کو الٰہی اور شرعی فریضہ سمجھتے تھے، اوراپنے چاہنے والوں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اس انقلاب میں شامل ہوجائیں ،یہ استغاثہ ہمیں اسی انقلاب میں شامل ہونے کی دعوت دے رہاہے اور یہ استغاثہ قیامت تک اسی طرح فضاؤں میں گونجتا رہے گا اور حسینیوں کو دعوت انقلاب دیتا رہے گا، امام کے اس استغاثے سے جہاں کربلا میں موجود شامیوں پر حجت تمام ہوگئی وہیں قیامت تک ہم پر بھی’’ لبیک یا حسین (ع)‘‘ کے ذریعہ امام کے استغاثے کاجواب واجب ہوگیا ہے ،اگر ہم صرف زبان سے ’’لبیک یا حسین (ع) ‘‘کہیں تو کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ عمل سے امام حسین - کی نصرت کریں ،خدا نخواستہ اگرآج سماج میں ایسی برائیاں موجودہوں جو یزید ی سماج میں تھیںاور ان سماجی برائیوں کے مقابلے میںکوئی شخص،انجمن یا ادارہ آگے نہیں آئے تو کیا ایسا سماج حسینی ہوسکتا ہے ؟کیا ایسا سماج امام حسین - کے استغاثے کا جواب ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ کی شکل میں دے سکتا ہے ؟یوں تو یزید ی بھی نماز پڑھتے تھے ،قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور حج وغیرہ کے علاوہ دیگر ارکان اسلام بھی بجالاتے تھے لیکن اُن کے سماجی اورمعاشرتی معاملات میں اسلام کا کوئی دخل نہیں رہ گیا تھا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ بہت مقدس نعرہ ہے اس نعرہ کودل سے لگانے والا حقیقی حسینی بن جاتا ہے ، سچا حسینی اس نعرہ کے معنی کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے اورجانتا ہے کہ ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تنہا اپنے لئے نہ سوچنا بلکہ پوری قوم اور سماج کی بہبودی کی فکر کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی نہ خود کسی پر ظلم کرنا اور نہ کسی کا ظلم برداشت کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی جھوٹ نہ بولنا  ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی کیسے ہی بدکردار کو اپنے اوپر حاکم نہ بنالینا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی ظالم سے مظلوم کو اُس کا حق دلانے کے لئے قرآن کے مطابق فیصلہ کرنا، ظالم اور مظلوم دونوں کو آدھے آدھے پر بیٹھ جانے کو نہ کہنا ! ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی عام راستوں کو تنگ نہ کردینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی امر بالمعروف کرنے والوں کو بے وقوف نہ سمجھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی مریضوں کو ﴿پاگل سمجھ کر﴾ان کا مذاق نہ اڑانا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی دینی بھائیوں کو پریشان کرنے کے لئے اُن کے ذرائع بندنہ کردینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اپنی زبان کو گالیوں سے محفوظ رکھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی یتیم اور بیواؤں کا حق نہ کھالینا ’’لبیک   یا حسین (ع)‘‘ یعنی ایک دوسرے کی زمین ،جائیداد اور مکان پر ناجائز قبضے نہ کرلینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تھانوں کچہریوں میں اپنے دینی بھایئوں کی جیب نہ لٹوادینا ’’لبیک   یا حسین (ع)‘‘ یعنی دینی بھایئوں کے خلاف جھوٹی گواہیاںنہ دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی دینی بھایئوں کے خلاف انہیں ستانے کے لئے ان پر جھوٹے مقدمے قائم نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی چند سکوں میں اپنے مذہب اور عقائد کا سودا نہ کرلینا ’’لبیک   یا حسین (ع)‘‘یعنی حرام روزی سے اپنے بچوں کی پرورش نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی شادی بیاہ اور مرنے جینے میں نئی نئی بے ہودہ رسمیں قائم کرکے سماج کے غریبوں کو پریشان نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ماڈرن ازم کے نام پر اپنی ناموس کو اپنے ہاتھوں بے حجاب نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تمام واجبات کوان کے وقت پر ادا کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تمام حرام کاموں سے پرہیز کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اپنے دینی بھائیوں کو بغیر سود کے قرض دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اپنے پڑوسی یا رشتہ دار کو بھوکا نہ سونے دینا ’’لبیک  یا حسین (ع)‘‘ یعنی قوم کے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ہر وقت فکر مند رہنا  ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی قوم کے لئے علاج معالجہ کی سہولتوں پر توجہ رکھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی چند سکوں میں پوری قوم کا سودا نہ کرلینا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی مومن بھائیوں کی غیبت نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی حق بات یا تحریر کی مخالفت نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ایک دوسرے سے حسد نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی سماج کی اصلاح کرنے والوں کی ہر طرح حمایت کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی چند سکوں میں اپناضمیر نہ بیچنا ’’لبیک   یا حسین (ع)‘‘ یعنی ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی کسی پر ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش نہ بیٹھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ماتمی انجمنوں کو سیاست کا اکھاڑا نہ بننے دینا  ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ماتمی انجمنوں کی کمان مذہبی افراد کے ہاتھوں میں ہی دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اشعار یا خطابت کے ذریعہ امام حسین (ع) کے خون کی تجارت نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی محافل و مجالس جیسے اہم اسلامی پلیٹ فارم کوکم علم اور غیر ذمہ دار ذاکرین کے ذریعہ تباہ و برباد نہ ہونے دینا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی کھانے پینے کی اشیائ میں ملاوٹ نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی دین پر رسموں کو ترجیح نہ دینا ’’لبیک   یا حسین (ع)‘‘یعنی دینی اداروں کی سربراہی میراث کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی قومی و مذہبی سرمائے سے بنائے گئے دینی اداروں کو اپنی ملکیت قرار نہ دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اوقاف کی لوٹ کھسوٹ نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی خمس و زکات کو اپنا ذاتی سرمایہ نہ سمجھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی چند سکوں کی خاطر مرجعیت کی مخالفت نہ کرنا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین سے بغاوت نہ کرنا ، اس نعرہ کو دل سے لگانے والا یہ بھی جانتا ہے کہ خدانخواستہ اگر کسی سماج میں یزیدی سماج کی علامتیں پائی جائیں تو اسے حسینی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے ؟کیا سماج سے مذکورہ برائیوں کو دور کرنے کے لئے صرف موجودہ رسوم عزا ہی کافی ہیں ؟! تو ان مراسم عزا سے سماج میں تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ اس وقت ہمارے ہندوستانی شیعہ سماج کو تبدیلی اور حسینی انقلاب کی ضرورت ہے،لہٰذا اپنے سماج کو حسینی بنانے کے لئے ہمیں میدان عمل میںآکر ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ کہنا چاہئے جو وقت کی اہم ضرورت ہے .

منابع

﴿1﴾سورۂ مائدہ ، آیت 105.﴿2﴾ بحار الانوار ، جلد72، صفحہ 38، مطبوعہ تہران.﴿3﴾ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ،تالیف مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ، صفحہ 163، گیارہواں ایڈیشن 1992،ناشر مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ،پوسٹ بکس 119 لکھنؤ. ﴿4﴾ تفسیر سیاسی قیام امام حسین (ع) ، تالیف سید علی شرف الدین موسوی علی آبادی ، صفحہ 325،ناشر دار الثقافۃ الاسلامیہ پاکستان ، پہلا ایڈیشن مئی 1994.﴿5﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ179، ناشر موسسۂ تعلیماتی و تحقیقاتی امام جعفر صادق (ع)، قم . ﴿6﴾ تاریخ ابن خلدون، جلد 2،صفحہ 75، ترجمہ علامہ حکیم احمد حسین الہ آبادی ، ناشر نفیس اکیڈمی کراچی ، دسواں ایڈیشن 1986.﴿7﴾ استاد مہدی پیشوائی نے اپنی کتاب سیرۂ پیشوایان میں صفحہ180 کے حاشیہ پر ’’تجارب الامم ‘‘ صفحہ 211 اور291 ،مطبوعہ تہران کے حوالے سے لکھا ہے. ﴿8﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ 179. ﴿9﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ179.﴿10﴾ مجموعہ آثار استاد شہید مطہری، جلد 17،صفحہ 664﴿11﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ176، بحوالہ سبط ابن الجوزی ، تذکرۃ الخواص ،صفحہ291، ناشر منشورات المکتبۃ الحیدریہ،1383 ہجری ﴿12﴾ یزید کی شخصیت اہل سنت کی نظر میں ،مرتب ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی ،صفحہ184،ناشر مجلس علمی نئی دہلی.﴿13﴾ یزید کی شخصیت اہل سنت کی نظر میں ،مرتب ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی ،صفحہ 387.﴿14﴾ تاریخ ابن کثیر، ترجمہ مولانا اختر فتحپوری، جلد 8،صفحہ 1013،ناشر نفیس اکیڈمی کراچی.

+ نوشته شده در  جمعه هجدهم آذر 1390ساعت 21:24  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

مردِ آہن.امام موسیٰ صدر(رح)

پیغمبر نوگانوی

5اگست 2008ئ کو نو تشکیل لبنانی پارلیمانی کمیٹی نے اکثرآرائ سے حزب اللہ کی اسرائیلی مظالم کے خلاف مزاحمت کو قانونی حیثیت سے تسلیم کرلیا اور حزب اللہ کی جوانمردی و فداکاری کی قدردانی کرتے ہوئے اپنی حمایت کا یقین دلایا ،یہ خبربڑی اہمیت کی حامل ہے .امریکہ اور اسرائیل عرصۂ دراز سے سیاسی ،اقتصادی اورفوجی دباؤ ڈال کر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں کرتے آئے ہیں اور اس کے لئے قطیر رقم بھی خرچ کر چکے ہیں علاوہ ازیں حکومت لبنان و شام اور ایران پر بہت زیادہ دباؤ بھی ڈال رہے ہیں ،نہ تو ایران و شام جھکنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی لبنانی حکومت نے گھٹنے ٹیکے ،لبنان میں پچھلے دنوں سیاسی عدم استحکام اور 2006میں امریکہ کی شہ پر اسرائیل کا حزب اللہ پر حملہ اسی سازش کا حصہ تھا،جب کہ حزب اللہ نے 36دن تک اسرائیل کا مردانہ وارمقابلہ کرکے امریکہ کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا،اگرچہ حکومت نے ایسا قدم صرف اس لئے اٹھایا تاکہ اسرائیل کی جارحیت کا سد باب کیا جا سکے اور یہ کام حزب اللہ سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا، حکومت لبنان کے اس فیصلے سے امریکہ کی اُس حکمت عملی کو بھی دھچکا لگا جس کی رو سے امریکہ حزب اللہ کو دہشت گردوں کی صف میں رکھنا چاہتا ہے اگر چہ یہ حکمت عملی تو اسی وقت ناکام ہوچکی تھی جب 36دن تک جاری رہنے والی جنگ میں حزب اللہ نے اسرائیل کو اپنی طاقت کا احساس کرایا تھا، جس سے دنیا بھر کی عوام میں حزب اللہ کی مقبولیت کا گراف بہت اوپر پہنچ گیا تھا. امریکہ اور اسرائیل اگر جمہوریت کی عینک سے حزب اللہ اور اس کے قیام کے عوامل و اسباب کودیکھنے کی کوشش کرتے اور حزب اللہ کے مقصد قیام پر نگاہ ڈال لیتے تو پھر نہ حزب اللہ کو دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتے اور نہ ہی غیر مسلح کراتے اور ان کی سمجھ میں یہ بھی آجاتا کہ حزب اللہ! مغرور و متکبر طاقتوں کے وحشیانہ مظالم پر مظلوموں ،خستہ حالوں اور دبے کچلے عوام کے رد عمل کا نام ہے .بہر حال جب یہ خبر Etv Urduسے سنی تو فوراً امام موسیٰ صدر یاد آئے اور کیوں نہ آتے لبنان میں حزب اللہ یا اس کے جانبازوں کی فداکاریوں میں امام موسیٰ صدر کا اہم کردار ہے ،لبنانی عوام کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا امام موسیٰ صدر کا وہ عظیم کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا .جب امام موسیٰ صدر جنوبی لبنان میں تشریف لائے تو وہاں کی سماجی حالت بہت ہی کرب ناک تھی ،لبنان کو فرانس کے چنگل سے آزاد ہوئے 16ہی برس گزرے تھے ،ابھی تو فرانس کے ذریعہ پھیلائی گئی تباہی کے آثار بھی محو نہ ہوئے تھے ،اسی درمیان فتنۂ اسرائیل بھی وجود میں آچکا تھا. لبنان پر فرانس نے اسی طرح قبضہ کر رکھا تھا جیسے برطانیہ نے ہندوستان پر ،جس طرح ہندوستان میں غیرملکی آریائیوں نے ہندوستان کے اصل باشندوں کو سماج کے سب سے نیچے طبقے میںڈھکیل دیا تھااسی طرح فرانس نے لبنان کے اکثریتی فرقے شیعہ کو سماج میں سب سے نیچے پائدان پر پہنچادیا تھا ،فرانس کے ذریعہ بنائے گئے ایک ہی قانون سے قارئین کو اس کا اندازہ بخوبی ہوجائے گا . 1932ئ میں فرانس نے لبنان میں یہ قانون پاس کیا جس کی رو سے لبنان میں شیعوں کو 20% ، سنیوں کو 30% اور عیسائیوں کو 50%مراعات دی جانے لگیں، اگر پارلمنٹ میں 100ممبر ہوتے تو 20شیعہ، 30سنی ،اور50 عیسائی اس کے علاوہ صدر، وزارت دفاع و اقتصاد جیسے اہم قلمدان بھی عیسائیوں کے ہاتھ میں تھے جب کہ آبادی کا تناسب اس کے برعکس تھا یعنی شیعوں کی تعداد 55%سنیوں کی تعداد 25%اور عیسائیوں کی تعداد 20%تھی . 1947ئ میں لبنان کے آزاد خیال وزیر تعلیم و ثقافت ’’ابو حیدر‘‘ نے پہلی بار اعلان کیا کہ یونیورسٹی میں داخلے فرانس کے قائم کردہ قانون کے تناسب سے نہیں بلکہ صلاحیت کے معیار پر ہوں گے،اس اعلان کے بعد یونیورسٹی میں پہلا ٹیسٹ ٹیچروں کی ٹریننگ کورس کے لئے منعقد کیاگیا جس میں ہزاروں امیدواروں نے شرکت کی ،اتنی بڑی تعداد سے صرف 27امیدوار منتخب ہونے تھے ،جب اس ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آیا تو میرٹ کے اعتبار سے 1سے 21تک شیعہ ،22سے 24تک غیر شیعہ اور 25سے 27تک شیعہ امیدوار کامیاب ہوئے یعنی 27میں سے 24شیعہ اور 3غیر شیعہ،اس نتیجے کو دیکھ کر غیر شیعوں نے آسمان سر پر اٹھالیا کہ اگر ایسا ہی رہا تو لبنان یونیورسٹی شیعوں سے بھر جائے گی ،چنانچہ وزیر تعلیم پر اتنا دباؤ پڑا کہ اُسے مجبوراً اس نتیجے کو کالعدم قرار دینا پڑا اور اُسی پرانے قانون کے اعتبار سے انتخاب عمل میں آیا جس میں بجائے 24کے 5 شیعہ امیدوار منتخب کئے گئے ،لہٰذا طبیعی تھا کہ جو قوم 1932ئ سے اس قسم کی ناانصافیاں اور زیادتیاں جھیل رہی ہو وہ پسماندہ ترین قوم میں تبدیل ہوجائے اور ایسا ہی ہوا ، جنوبی لبنان میں نہ کوئی مدرسہ تھا نہ ہسپتال ،نہ پختہ سڑکیں ،نہ بجلی اور پانی کی سہولت ،جنوبی لبنان کے بعض علاقوں جیسے ’’بعلبک‘‘اور ’’عکار‘‘ کی حالت تو اتنی خراب ہوگئی تھی کہ شیعوں کی سالانہ آمدنی فی کس 75لیرہ ہی رہ گئی تھی جب کہ لبنان کے عیسائی نشین علاقوں میں یہ شرح بڑھ کر کئی ہزار لیرہ فی کس ہوگئی تھی ،ان حالات سے دوچار جنوبی لبنان کے باشندوں کے لئے ایک وقت کی روٹی سنگین مسئلہ تھی ،چہ جائیکہ اعلیٰ تعلیم و تربیت یا علاج و معالجہ یا دیگر ضروریات زندگی ،جو میسر بھی نہ تھیں. لبنان میںمتحارب گروپوں کی تعداد 72سے تجاوز کرگئی تھی جوایک دوسرے سے نبر د آزما رہتے تھے ان گروپوں کو کسی نہ کسی ملک کے سفارت خانے کی حمایت حاصل ہوتی تھی اور لڑنے کے لئے افراد کی سخت ضرورت، لہٰذا یہ گروپ ان خستہ حال شیعوں کو اپنے یہاں بھرتی کرلیتے تھے ،اگر لڑتے ہوئے یہ مرجاتے تو کوئی بات نہیں بیوہ اور یتیموں پر مصیبت کا بوجھ اضافی ہوجاتاتھا اور اگر بچ گئے تو ایک دن کی مزدوری لے کر گھر واپس آجاتے تھے ،ہرگروپ مرنے والوں کے نام پر اپنے ملک سے اچھی رقم معاوضے کی حاصل کرتا تھا مگر ان بے چاروں کواس رقم میں سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا، ابھی تو یہ لوگ ایک وقت کی روٹی کے لئے اس طرح جوجھ ہی رہے تھے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے جان جوکھم میں ڈالے ہوئے تھے کہ1948ئ میں امریکہ اور روس کی نیرنگیوں کے باعث ارض فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہوگیا اسرائیلی وحشی، فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان کے شیعوں پر بھی مظالم کے پہاڑ توڑنے لگے ،ایک طرف تو اقتصادی مار دوسری جانب اسرائیل کی گولیاں اور میزائیل ،اس طرح ان لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب ان کے پاس سر ڈھانپنے کا بھی ٹھکانا نہیں رہا صرف شہر صور ہی کو لے لیجئے یہ جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے اور شیعہ نشین ہے اسرائیل نے 7روزہ جنگ میں 75% منہدم کرڈالا اس شہر کی 4لاکھ آبادی سے 3لاکھ آبادی بے گھر ہوکر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئی. اسرائیلیوں کی غرور و نخوت کا یہ عالم تھا کہ 1972ئ میں اسرائیلی کمانڈوز کا ایک گروہ جنوبی لبنان میں داخل ہوا ،جنوبی لبنان کے چند غریب کسانوں نے اِن کے مظالم پر احتجاج کیا تو اسرائیلی کمانڈرنے تحقیر آمیز لہجے میں کہا کہ : ہمیں لبنان پر قبضہ کرنے کے لئے فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے ،اپنی لڑکیاں بھیج دیں گے وہ جس علاقہ پر چاہیں گی قبضہ کرلیں گی،اس واقعہ سے جنوبی لبنان کے شیعوں کی بے چارگی و لاچاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،اُس وقت اقوام عالم کے کسی بھی ملک نے ان ستم دیدہ افراد کی حمایت میں آواز نہیں اٹھائی تھی .خدا بھلا کرے عراقی خاندانِ صدر کے چشم و چراغ اور آیت اللہ سید محمد باقر الصدر (رح) کے چچا زاد بھائی امام موسیٰ صدر کا جنہوں نے جنوبی لبنان کے عوام کے اس درد اور کرب کو محسوس کیا ،امام موسیٰ صدر اُس وقت ایران کے مقدس شہر قم میں مقیم تھے اور آپ کے والد گرامی عالم تشیع کے مرجع تھے . امام موسیٰ صدر 4مارچ1929ئ میں پیدا ہوئے اور حوزۂ علمیہ قم و نجف اور تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ،آیت اللہ ڈاکٹر بہشتی اور آیت اللہ موسوی اردبیلی آپ کے ہم کلاس تھے .ایران میں اسلامی افکار پر مبنی مجلہ سب سے پہلے آپ ہی نے ’’مکتب اسلام‘‘ کے نام سے نشر کیا جو قم سے آج تک نشر ہو رہاہے . آپ نے طالب علمی کے زمانہ میں لبنان کا سفر پہلی بار کیا تھا اُس وقت آپ کی ملاقات آیت اللہ شرف الدین موسوی سے ہوئی تھی ،آپ لبنان میںشیعوں کے رہبر تھے اور آپ کا تعلق بھی صدر خاندان سے تھا ،شرف الدین موسوی صاحب نے امام موسیٰ صدر کا والہانہ استقبال کیا اور اپنے بعد لبنانی شیعوں کا رہبر معین کردیا ،چند سال بعد آیت اللہ سید عبدالحسین شرف الدین موسوی نے داعی اجل کو لبیک کہا ،لبنانی شیعوں نے وصیت کے مطابق امام موسیٰ صدر کو اپنے رہبر کے طور پر تسلیم کرلیا اور ایران سے لبنان آنے کی دعوت دی.آپ 1959ئ میں ایران سے جنوبی لبنان کے شہر صورتشریف لے آئے اور یہاں مسجد کی امامت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں ناامیدی سے نجات دلا کر زندہ رہنے کی آرزو کا نیا جوش و ولولہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا ،اُدھر ایرانی اسکالر ڈاکٹرشہید مصطفی چمران (رح) بھی یہاں پہنچ گئے اور آپ کے قوت بازو بن گئے دونوں نے مل کر جنوبی لبنان کے باشندوں کی حالت سدھارنے کے لئے رات دن ایک کردیئے،امام موسیٰ صدر کا حکومت لبنان سے شیعوں کے حق میں یہ مطالبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جو انہوں نے شیعوں کی نمائندہ جماعت کی تاسیس کے لئے کیا تھا .لبنان میں تمام فرقوں اور طائفوں کی نمائندہ جماعتیں تھیں جو اپنے اپنے حقوق و مفاد کی نگہبانی کیا کرتی تھیں لیکن شیعوں کی ایسی ایک بھی تنظیم نہ تھی،اگرچہ اس مطالبہ کی لبنان میں پُرزور مخالفت کی گئی مگر امام موسیٰ صدر نے ہمت نہ ہاری اور آخر کار 1969ئ میں لبنانی پارلمنٹ میں آپ نے’’ مجلس اعلای اسلامی شیعیان‘‘ نام کی تنظیم کو قانونی حیثیت سے پاس کرالیا یہ تنظیم لبنان میں شیعوں کے حقوق کی حفاظت کرتی تھی ،اس تنظیم کے رئیس امام موسیٰ صدر ہی قرار پائے ،امام موسیٰ صدر نے ایک سال بعد حکومت لبنان سے شیعوں کی امداد اور ان کی حمایت کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیاتاکہ اسرائیلی وحشیوں کے شر سے جنوبی لبنان کے باشندے کسی حد تک محفوظ رہ سکیں اور ان کے لئے رفاہی و تعلیمی فعالیت کی جاسکے اور اس طرح لبنان کی ترقی کی دوڑ میں یہ لوگ بھی شامل ہوجائیں،حکومت لبنان نے اس ذمہ داری ﴿اسرائیلیوں سے لبنانی شیعوں کی حفاظت اور ترقی کی دوڑ میں انہیں شامل کرنے﴾کو قبول کرنے سے انکار کردیا،حکومت کے اس فیصلے کے خلاف امام موسیٰ صدر نے لبنانی شیعوں کے ساتھ 1970میں بیروت میں زبردست احتجاج کیا اور تمام لبنان سے جوق در جوق شیعہ بیروت پہنچ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بیروت ایئر پورٹ پر دسیوں ہزار احتجاجیوں کا قبضہ ہوگیا جس سے لبنان کا رابطہ پوری دنیا سے منقطع ہوگیا،حکومت لبنان نے مجبور ہوکر سالانہ30ملین لیرہ کا بجٹ جنوبی لبنان میں ترقیاتی کاموں کے لئے منظور کیا یہ جنوبی لبنا ن کے شیعوں کی پہلی کامیابی تھی،اس کامیابی سے متاثر ہوکر جو شیعہ ادھر اُدھر بھٹک رہے تھے وہ بھی امام موسیٰ صدر کے گرویدہ ہوگئے اور اس طرح آپ کی طاقت میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا،چنانچہ امام موسیٰ صدر نے 20نکات پر مشتمل جائز مطالبات کی فہرست حکومت لبنان  کو1972میںسونپ دی ،جس میں سے چند مطالبات یہ تھے = جنوبی لبنان کے ہر شیعہ جوان کو مسلح کردیا جائے تاکہ اسرائیل کی زیادتیوں کا مقابلہ کرسکیں= جنوبی لبنان میں پناہ گاہ بنائی جائے تاکہ اسرائیل کی بم باری سے محفوظ رہ سکیں= بیروت سے جنوبی لبنان تک ہائی وے تعمیر کیا جائے جس سے اس علاقے کے لوگ آسانی سے بیروت رفت و آمد کرسکیں=لیطانی ندی پر ڈیم بنایا جائے یہ لبنان کی سب سے بڑی ندی ہے جو جنوبی لبنان ہوتی ہوئی سمندر میں گرتی ہے،اسرائیل کو چونکہ پانی کی شدید ضرورت ہے اس لئے اسرائیل اس ندی کو منحرف کرکے پانی پر قبضہ کرنا چاہتا تھا=جنوبی لبنان کے اُن شیعوں کے شناختی کارڈ بنائے جائیں جنہوں نے استعمارِفرانس کے دوران احتجاجاً شناختی کارڈ نہیں لئے تھے اور ابھی تک یہ لوگ بغیر شناختی کارڈ کے تھے جس سے انہیں بے حد دشواریوں کا سامنا تھا،حکومت لبنان نے ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا،1973میں شیعوں کے اس مطالبے نے زور پکڑ لیااور لبنان کی تمام میڈیا میں اس کا اثر نظر آنے لگا،امام موسیٰ صدر نے حکومت لبنان کو ایک ہفتہ کا الٹیمیٹم دے دیا اور شیعہ وزرائ سے کہا کہ اگر حکومت نے ایک ہفتے کے اندر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو استعفیٰ دے دینا ،اسی دوران یعنی 1973میں اسرائیل کی عربوں سے جنگ چھڑ گئی لہٰذا امام موسیٰ صدر نے اپنی طاقت اسرائیل کے مقابلے لگاکر مطالبات کو ملتوی کردیا،جنگ تمام ہوگئی لیکن حکومت لبنان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا ،مجبور ہوکر امام موسیٰ صدر نے 17مارچ 1974کو 75ہزار مسلح افراد کو ساتھ لے کر اپنے مطالبات کو تسلیم کرانے کے لئے ایک زبردست احتجاج کیا جس سے لبنان کی عیسائی نواز حکومت پر لرزہ طاری ہوگیا،چونکہ عیسائی نوازحکومت کے پاس 12ہزار فوج تھی اور یہ 75ہزار افرادایسے تھے جو قسم کھاکر گھر سے نکلے تھے کہ جب تک ہمیں معاشرے میں ہمارا حق نہیں ملے گا اپنا آخری خون کا قطرہ بھی بہادیں گے، ڈاکٹرشہیدچمرا ن کے بقول:ابھی ان 75ہزار افراد نے صرف نعرۂ حیدری ہی مل کر بلند کیا تھا کہ لبنانی افواج کے بڑے بڑے کمانڈر اور فوجی اپنے ٹینک تک چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ،لہٰذا حکومت لبنان جو اس موضوع پر گفتگو کے لئے بھی تیار نہیں تھی اُس نے فوراً 7نفرہ کمیٹی بناڈالی تاکہ شیعوں کے مطالبات پر یہ کمیٹی غوروخوص کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کرے،اس کمیٹی نے مطالعہ کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کردی اور کہا کہ شیعوں کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے جائیں کیوں کہ یہ مطالبات بنیادی اور جائز ہیں،کمیٹی کی مثبت رپورٹ آنے کے بعد بھی حکومت لبنان ٹس سے مس نہ ہوئی اور یہ مطالبات مسترد کردیئے،لہٰذاامام موسیٰ صدر نے اس سلسلے کا دوسرا احتجاج جنوبی لبنان کے شہر صور میں برپا کیا جو اس سے بھی زیادہ طاقت ور تھا ،اس احتجاج میں1لاکھ 50ہزارشیعوں نے حصہ لیا ،حالانکہ اس کو کم رنگ کرنے کے لئے حکومتی میڈیا نے بہت سی سازشیں رچیں مگر کامیابی نہ ملی تو پھر شہر صور کی ناکہ بندی کرلی تاکہ شہرصورکے علاوہ دیگر شیعہ اس میں شریک نہ ہوسکیں یا یہ احتجاج جلوس کی شکل میں صور سے باہر نہ آجائے،اس احتجاج سے حکومت لبنان کو شیعوں کی طاقت کا اندازہ ہوگیا .ادھر امام موسیٰ صدر بھی چین سے نہ بیٹھے اور یہ طے کیا کہ اگر حکومت اب بھی ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو ہم بیروت میں احتجاج کریں گے .امام موسیٰ صدر1973ئ میں لبنانی شیعوں کے غصب کئے گئے حقوق کی بازیابی کے لئے ’’حرکت محرومین ‘‘ نام کی تنظیم بنا چکے تھے جس کی رکنیت لوگوں نے بڑے پیمانے پر حاصل کرلی تھی ،اس تنظیم کی فعالیت رفاہی و تعلیمی سرگرمیوں تک محدود تھی لیکن جب اسرائیلی دہشت گردی نے اِن لوگوںکا جینا حرام کردیا تو مجبوراً 1974میں اس تنظیم ﴿حرکت محرومین ﴾ کا مسلح بازو بھی بنانا پڑا جس کا نام ’’امل‘‘ رکھا گیا جو ’’افواج مقاومۃ لبنانیۃ‘‘کا مخفف ہے،اس تنظیم میں شیعہ نوجوانوں کو بھرتی کرکے اپنا دفاع کرنے کی ٹریننگ دی جانے لگی ،امام موسیٰ صدر نے اس تنظیم میں دو ایسی خصوصیتیں پیدا کردی تھیں جو دنیا کی کسی بھی تنظیم میں اُس وقت نہ تھیں،ایک یہ کہ سُپر طاقت صرف خداوند عالم کی ذات ہے اور کوئی نہیں یعنی خدا کے علاوہ کسی سے بھی ڈرنا نہیں ہے،دوسرے یہ کہ’’ امل ‘‘کا کوئی بھی رکن کسی بھی حکومت یا ملک سے رشوت لے کر اپنے بھائیوں اور مقصد کو نقصان نہیں پہنچائے گا ،اس میں بھی آپ 100% کامیاب رہے کیونکہ صرف اسرائیل نے ہی فتح تنظیم کے رہبر ﴿ خالد الحسن﴾ کے بقول: 1950میں ایک فنڈ قائم کیا تھا تاکہ اس فنڈ سے فلسطینی رہنماؤں کو رشوتیں دی جائیں ،فلسطینیوں سے جنگ کے وقت اس فنڈ میں 100ملین ڈالر موجود تھے جو بعض فلسطینی رہبروں میں تقسیم کئے گئے جو فلسطینیوں کی شکست کا باعث ہوا،بہر حال امل تنظیم اسرائیلی دہشت گردی کا مردانہ وار مقابلہ کرتی رہی .اور یہ سلسلہ مزاحمت ِ حزب اللہ کی شکل میں آج تک جاری ہے ، جنوبی لبنان کے نوجوانوں میں جتنا بھی جوش و خروش اپنی ناموس، عزت نفس اور حقوق کو بچانے کے لئے ہے وہ سب امام موسیٰ صدر کی دین ہے ،آپ ہی نے اپنے خون پسینے سے لبنانیوں کی آبیاری کی ہے، وہ شیعہ قوم جو آج لبنان میں سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے وہ صرف امام موسیٰ صدر کی قربانی کی وجہ سے ہے ورنہ شیعوں کی لبنان میں کوئی وقعت نہ تھی. جنوبی لبنان کے باشندوں کی اِن کامیابیوں سے خائف امریکہ ،لبنان اور اسرائیل نے امام موسیٰ صدر کو راستے سے ہٹانے کی ٹھان لی ،اورلیبیا کے جنرل قذافی سے امام موسیٰ صدر کے نظریاتی اختلاف نے مہمیز کا کام کیا کیونکہ جنرل قذافی شیعوں اور سنیوں سے مذہبی اختلاف رکھتے تھے اور خود نہ سنی تھے اور نہ شیعہ،اپنے آپ کو ’’زمین پر اللہ کا خلیفہ‘‘ اور ’’امیرالمومنین‘‘ کہلواتے تھے صرف قرآن کو مانتے تھے سنت کا انکار کرتے تھے اور انہوں نے ایک کتاب ’’سبزکتاب‘‘ کے نام سے بھی لکھی تھی جو ان کے عقائد کی آئینہ دار ہے،لیبیا کے 30جید علمائ اہل سنت کو اسی اختلاف کی وجہ سے جنرل قذافی نے جیل میں ڈال رکھاتھا،حتی کہ سنیوں کے نمائندہ اور لبنان کے مفتی کو 10دن جیل میں رکھا تھا،لہٰذا انہوں نے امام موسیٰ صدر کو بھی نہ چھوڑا، امام موسیٰ صدر نے الجزائر کا سفر کیا اور وہاں کی شخصیات بالخصوص ’’بومدین‘‘سے مذاکرات کئے جو بہت کامیاب رہے ،اس کے بعد لبنان کی ’’امل‘‘ تنظیم اور الجزائر کی ’’محاذبرائے آزادی الجزائر‘‘کے درمیان تال میل ہوگیا اور دونوں نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ،اس کامیابی سے متاثر ہوکر الجزائر میں بعض شخصیات نے امام موسیٰ صدر کو مشورہ دیا کہ جنرل قذافی سے بھی بات چیت کرلیں تاکہ دونوں کے درمیان صلح صفائی ہوجائے ،امام موسیٰ صدر نے ملت کی بھلائی کی خاطر اسے قبول کرلیا ،ادھر ان اشخاص نے لیبیا سے بھی ایسی ہی درخواست کی چنانچہ حکومت لیبیاکا امام موسیٰ صدر کو سرکاری دعوت نامہ بھی موصول ہوگیااور آپ 25اگست 1978کو لیبیا روانہ ہوگئے،31اگست تک قیام کیا لیکن جنرل قذافی سے ملاقات نہ ہوسکی ،امام موسیٰ صدر نے لبنان واپس آنے کا ارادہ کرلیا ،اسی روز یعنی 31اگست 1978 ئ کو 2:30بجے دن تک تو آپ اپنی قیام گاہ ﴿ہوٹل ﴾ کے باہر دیکھے گئے لیکن اس کے بعد سے آج تک پتہ ہی نہ چلا کہ کہاں گئے ،زندہ ہیں یا مردہ؟اگلے روز یہ خبر میڈیا کی سرخیوں میں ضرور آئی کہ لیبیا میں امام موسیٰ صدر اغوا کرلئے گئے.

+ نوشته شده در  چهارشنبه چهارم آبان 1390ساعت 17:22  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

سبق آموز شادی

پیغمبر نوگانوی

صاحبان ِ اقتدار کے یہاں جب کوئی خوشی کی تقریب ہوتی ہے تو تمام ضابطوں کو بالائے تاق رکھ دیا جاتا ہے اور فضول خرچی کے ریکارڈ قائم کردیئے جاتے ہیں ،سرکاری سازو سامان کے ساتھ ساتھ خزانے تک کو استعمال میں لایا جاتا ہے اور اس طرح اپنی پوری شان و شوکت دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے ،جس کی مثالوں سے تاریخی کتابیں بھری پڑی ہیں ،متوکل نے اپنے بیٹے ’’معتز‘‘کی ذرا سی ختنہ کرائی تھیں تو 8کروڑ 60لاکھ درہم خرچ کر ڈالے تھے ﴿1﴾ہارون رشید کی شادی ہوئی تو طرفین کے 5کروڑ درہم خرچ ہوئے ﴿2﴾ اور مامون رشید کی شادی میں طرفین کے 7کروڑ 60لاکھ درہم خرچ ہوگئے ﴿3﴾ یہ حال اکثر صاحبان اقتدارکے یہاں شادیوں میں ہوتا ہے جس کو دیکھ کر معاشرے کے غریب لوگ اپنی بے بضاعتی پر کف افسوس مل کر رہ جاتے ہیں ،بزرگان اسلام نے غریبوں سے اسی احساس کو ختم کرانے کے لئے حکم دیا ہے کہ صاحبان اقتدار اپنے معاشرے کے غریبوں جیسی زندگی گزاریں کیونکہ جب وہ اپنے حاکم کو اپنی جیسی زندگی گزارتے ہوئے دیکھیں گے تو انہیں اپنی ناداری پر غصہ نہیں آئے گا،حضرت علی (ع) نے بصرہ کے عامل ’’عثمان بن حُنیف‘‘ کے نام مکتوب میں اس بات کی جانب اشارہ فرمایا ہے ﴿4﴾ اور رسول اسلام (ص) نے اپنی لخت جگر ،خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی شادی جس سادگی سے کی تھی اس کا مقصد بھی یہی ہوسکتا ہے تاکہ اس شادی کو نظر میں رکھتے ہوئے ایک غریب مسلمان بھی اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر پریشان و شرمندہ نہ ہو ،لیکن افسوس! جب ہم جناب فاطمہ (ع)زہراو علی (ع)مرتضیٰ کی شادی کی مثال ہندوستان کے مسلم معاشرے میں پیش کرتے ہیں تو لوگ ماننے کو تیار نہیں ہوتے ،کوئی کہتا ہے کہ میاں!وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے ،زمانے کے ساتھ چلنا چاہئے ،اِس زمانے کا اسٹینڈرڈ اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ اتنی سادگی سے شادی کی جائے ،کوئی کہتا ہے کہ شادی روز روز تو ہوتی نہیں کیوں نہ ایک بار دل کھول کر خرچ کرلیاجائے ،کوئی کہتا ہے کہ وہ نوری بندے تھے ہم خاکی بندے ہیں ،ہم سے اُن کی پیروی نہ ہوسکے گی . آیئے ہم اِس زمانے کے تہران جیسے ہائی اسٹینڈرڈشہر میں ہونے والی ایک ایسی شادی کا تذکرہ کرتے ہیں جو 10سال پہلے ہوئی تھی،میں اُس وقت ایران کے مقدس شہر ’’قم ‘‘میں تھا اور اِس شادی کو ایران کی اکثر نیوز ایجنسیوں اور روزناموں نے نشرکیا تھا .ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ کے بیٹے ’’آقای مجتبیٰ‘‘ کی یہ شادی ایرانی پارلمنٹ کے سابق اسپیکر ’’آقای حداد عادل‘‘کی بیٹی کے ہمراہ ہوئی تھی ،اگرچہ اس شادی کو 10سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اس سے سبق آموزی تو سیکڑوں سال تک باقی رہے گی ،اسی لئے یہ شادی قابل تذکرہ ہے.

ہمارے سماج میں لڑکیوں کی دل شکنی کا قطعاً خیال نہیں رکھا جاتا حتی کہ بعض ناسمجھ اور تعلیمات اسلامی سے بے گانہ افراد تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتہ توڑڈالتے ہیں اور لڑکی کادل ٹوٹنے کی انہیں پرواہ بھی نہیں ہوتی ،اور بعض افراد ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو اَنا اور وقار کا مسئلہ بنالیتے ہیں اور بیٹی کا رشتہ خود ہی توڑ ڈالتے ہیں اور ایسے مواقع پر بیٹیوں کے دل کس طرح چکنا چور ہوتے ہیں اس کا خیال بھی انہیں نہیں آتا،اس شادی سے ہمیں سب سے بڑا درس یہی ملتا ہے کہ بیٹیوں کے احساسات و جذبات کا طرفین کو خیال رکھنا چاہئے جو کہ ایران میں اکثر رکھا جاتا ہے ،آقای حداد عادل کی بیٹی کے رشتے کی بات جب آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے بیٹے سے چلی تو دونوں طرف کے بزرگوں نے یہ طے کیا کہ لڑکی کو غیر محسوس طریقے سے اُس کے اسکول میں دیکھ کر پسند کیا جائے تاکہ اگر کسی وجہ سے رشتہ نا منظور ہوجائے تو لڑکی کو صدمہ نہ ہو ،لہٰذا جب لڑکے والوں نے اپنی منظوری دے دی اُسی وقت لڑکی سے بتایا گیا اور اُس کی مرضی دریافت کی گئی.

یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ ایران میں رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای سب سے زیادہ محترم ،سب سے زیادہ با اختیار اور سب سے زیادہ طاقتور شخصیت ہیں ،آپ زمینی، ہوائی اور بحری افواج کے کمانڈر ان چیف ہیں اور ایران کے گیس ،تیل اور پیٹرول کی آمدنی کا خمس ﴿پانچواں حصہ﴾ بھی آپ کے اختیار میں ہوتا ہے جسے آپ مذہبی امور پر خرچ کرتے ہیں ،چونکہ آپ ’’ولی فقیہ‘‘ ہیں اس لئے آپ کا حکم ماننا پورے ایران پر واجب ہے،اگر آپ اپنے بیٹے کی شادی میں شان و شوکت دکھانا چاہتے تو سب سے اچھی دکھا سکتے تھے لیکن آپ چونکہ امام علی (ع) کے حقیقی پیروکار ہیں اور حکومت ایران کو حکومت علی (ع) سے تعبیر فرماتے ہیں تو پھر کس طرح ایسا کرسکتے تھے ،آپ بیت المال اور اس طاقت و اختیار کو اپنی ذات کے لئے استعمال نہیں فرماتے بلکہ اس طاقت و اختیار کے ذریعہ ایران اور ایرانی عوام کی ترقی و فلاح و بہبودکے لئے کوشاں رہتے ہیں.

آپ کے سمدھی آقای حداد عادل کا بیان ہے کہ جب منگنی و خواستگاری کے مراحل طے ہورہے تھے تو آیت اللہ خامنہ ای نے مجھے بلاکر فرمایا: ’’تمہاری مالی حالت مجھ سے بہتر ہے ،میرے پاس مال دنیا سے صرف ایک گاڑی کتابیں ہیں اور جس گھر میں رہتا ہوں اُس میں تین کمرے ہیں دو میرے استعمال میں ہیں اور ایک کمرہ ارکان حکومت سے میٹنگ کے لئے مخصوص ہے اور میرے پاس اتنا روپیہ پیسہ بھی نہیں ہے کہ مکان خرید کر بیٹے کو دے سکوں ،البتہ ایک مکان دو منزلہ کرائے پر لے لیا ہے ایک طبقہ میں ﴿ایک بیٹا ﴾مصطفی اور دوسرے طبقے میں ﴿یہ دوسرا بیٹا ﴾مجتبیٰ رہیں گے ﴿ایران میں اسلامی اخلاق کا لحاظ رکھتے ہوئے ماں باپ بیٹے کے لئے شادی کے بعدعلیحدہ مکان کا انتظام کردیتے ہیں ﴾آپ اپنی بیٹی سے یہ سب بتادیجئے وہ یہ خیال نہ کرے کہ رہبر کی بہو بننے جا رہی ہے،ہمارا طرز زندگی آپ سے بھی سادہ ہے .میرا بیٹا مجتبیٰ قم جاکر حوزۂ علمیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گااور ﴿طالب علموں کی طرح ﴾زندگی گزارے گا ،یہ تمام باتیں آپ اپنی بیٹی سے بتا دیجئے تاکہ کوئی بات اس سے پوشیدہ نہ رہ جائے ﴿5﴾یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا آبائی مکان جنوبی تہران میں ہے جس میں آپ سیکورٹی کے مد نظر نہیں رہتے اور مجبوراً سرکاری مکان میں رہتے ہیں لہٰذا آبائی مکان کو کرایئے پر دے رکھا ہے اور جو کرایہ آتا ہے اُسی میں اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں ایران گورنمنٹ سے نہ تنخواہ لیتے ہیں اور نہ ہی بیت المال و رقومات شرعیہ ﴿خمس وغیرہ ﴾ سے اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں .آقای حداد عادل مزید کہتے ہیں کہ : ﴿میری بیٹی سے آقای مجتبیٰ کی شادی کے لئے﴾ جب مہر کی بات چیت ہونے لگی تو آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا :مہر کا اختیار آپ کی بیٹی کو ہے وہ جتنا چاہے طے کرسکتی ہے لیکن 14سونے کے سکوں سے زیادہ ہوگا تو میں نکاح نہیں پڑھوں گا کیوں کہ میں 14سکوں سے زیادہ مہر کا نکاح نہیں پڑھتا ہوں اور ابھی تک ایسا نکاح پڑھا بھی نہیں ہے ،اگر آپ لوگ اس سے زیادہ مہر رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا مگر صیغۂ عقد جاری کرانے کے لئے کسی اور عالم کو بلا لیجئے گا ﴿6﴾.یہ ہے امام علی (ع) کی پیروی کہ جو ضابطہ عوام کے لئے ہے وہی اپنے بیٹے کے لئے ہے ،جب کہ بیٹے یا بیٹی کی شادی میں اکثر لوگ کسی بھی ضابطے کے پابند نہیں رہ پاتے ہیں .

آج کل ہندوستان کے مسلم سماج میں لڑکا، لڑکی والوں کے مال پر اپنا جائز حق سمجھتا ہے اور جب بات شادی کے وقت خرید و فرخت کی آتی ہے تو لڑکا گھڑی، جوتا، کپڑے ،انگوٹھی وغیرہ کے شوروم میں مہنگے سے مہنگے سامان پر ہاتھ رکھتا ہے ،چاہے اس سے پہلے کبھی یہ سامان اُس نے استعمال بھی نہ کیا ہو. لیکن آقای حداد عادل کے بقول جب آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے آقای مجتبیٰ سے شادی کے لئے خرید و فروخت کی بات آئی تو انہوں نے گھڑی ،انگوٹھی اور دیگر سامان خریدنے سے انکار کردیا ،اس کے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے عقیق کی انگوٹھی آقای حداد عادل کو دی اور فرمایا کہ کسی نے مجھے تحفہ میں دی تھی میں آپ کی بیٹی کوتحفہ دیئے دیتا ہوں اور آپ کی بیٹی یہی انگوٹھی ﴿اپنے ہونے والے شوہر ﴾مجتبیٰ کو تحفہ دے سکتی ہے ﴿7﴾﴿ایران میں رواج ہے کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو شادی کے بعد تحفہ دیتے ہیں﴾

 اس کے بعد یہ مسئلہ طے ہونا تھا کہ شادی کہاں ہو ، آقای حداد عادل کہتے ہیں کہ : آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا :اگر ہوٹل میں شادی کرنا چاہو تو کر سکتے ہو لیکن میں شرکت نہیں کروں گا ،آقای حداد عادل نے کہا کہ آپ جیسا حکم فرمائیں گے و یسا ہی ہوگاتو آپ نے فرمایا کہ میرے اس مکان کے تینوں کمروں میں جتنے مہمانوں کی گنجائش ہوگی اس سے آدھے مہمان مدعوکئے جائیں ،آقای حداد عادل نے کہا کہ اس مکان میں زیادہ سے زیادہ 200مہمانوں کی گنجائش ہے.شادی کی تقریب میں تقریباً 50اپنے رشتہ دار وں کو آقای حداد عادل نے مدعو کیا اور اتنے ہی قریبی رشتہ داروں کو آیت اللہ خامنہ ای نے مدعو کیا اور ارکان حکومت سے صرف آقای محمد خاتمی ﴿صدر﴾ آقای ہاشمی رفسنجانی،آقای ناطق نوری اور قوۂ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے رئیسوں کے علاوہ ڈاکٹر حبیبی کو مدعو کیا گیا اور صرف ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیاگیا اور 2ٹیکسیوں میں بارات لے جائی گئی اور ایک قالین مشین سے بنی ہوئی آیت اللہ خامنہ ای نے دی اور ایک قالین آقای حداد عادل نے د ی،آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے تاکید کردی تھی کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی دفتر کی﴿سرکاری﴾استعمال نہ کی جائے ،اس موقع پر ایک گاڑی کی سخت ضرورت پیش آئی لیکن آپ نے سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہ دی﴿8﴾ اور اس طرح بہت ہی سادگی سے یہ شادی انجام پائی جو پوری دنیا کے مسلمانوں اور صاحبان اقتدار کے لئے سبق آموز ہے .

 منابع

﴿1﴾ الدیارات ، صفحہ 100،تالیف ابی حسن علی بن محمد ،متوفی 388ھ، ناشر دارالمعارف بغداد،1951ئ

﴿2﴾ الدیارات ، صفحہ 101،تالیف ابی حسن علی بن محمد ،متوفی 388ھ، ناشر دارالمعارف بغداد،1951ئ

﴿3﴾ الدیارات ، صفحہ 101،تالیف ابی حسن علی بن محمد ،متوفی 388ھ، ناشر دارالمعارف بغداد،1951ئ

﴿4﴾ نہج البلاغہ، خط 45،صفحہ 557،ترجمہ علامہ ذیشان حیدر جوادی، ناشر انصاریان پبلیکیشنز، قم

﴿5﴾ ایسنا نیوز ایجنسی

﴿6﴾ ایسنا نیوز ایجنسی

﴿7﴾ ایسنا نیوز ایجنسی

﴿8﴾ ایسنا نیوز ایجنسی

+ نوشته شده در  دوشنبه هفدهم مرداد 1390ساعت 11:19  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

کرپشن اور ترقی!

پیغمبر نوگانوی
 

لیجئے صاحب!ہم نے کرپشن کے ٹاپ ٹین میں اپنا شمار کراتے ہوئے بھی اتنی ترقی کرلی ہے جس سے امریکہ متاثر ہوگیا اور امریکی سربراہان مملکت ہماری ترقی کے گن گان کرنے لگے ،چند روز قبل 21جولائی 2011کو چنئی میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے یہ بیان دے کر حیرت میں ڈال دیا کہ’’امریکہ بھارت کی ترقی کو تاریخی نظروں سے دیکھتا ہے ‘‘ہندوستانی عوام اور خواص اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کرپشن اور ترقی ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر امریکہ کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور اس نے بغیر زمینی حقائق کو معلوم کئے سرکاری میڈیا پر اعتماد کرتے ہوئے چند سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے یہ بیان دے دیا ،امریکہ ہندوستان کے بارے میں ایسے بیان دے کر مزید پینگیں بڑھانا چاہتا ہے ،اگر امریکہ نے اتنے وسیع و عریض ہندوستان کی ترقی کا پیمانہ صرف نوئیڈا، فریدآباد، غازی آباد، ممبئی ، کولکاتہ، چنئی اور بنگلور وغیرہ کو نگاہ میں رکھ کر بنایا ہے تو یہ بہت چھوٹا ہے ،کسی بھی ملک کی ترقی کو ناپنے کے لئے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں ، قصبوں اور چھوٹے شہروں کی ترقی اور وسائل زندگی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوتاہے ،صرف موبا ئل فون گھر گھر پہنچانے کا نام ترقی نہیں ہے، موبائل کو چارج کرنے کے لئے بجلی کی ضرورت بھی ہوتی ہے جس کی ہمارے ملک میں شدید قلت ہے ، ابھی ہمارا ہندوستان اپنے پورے ملک میں بجلی اور پینے کا پانی مہیا نہیں کراسکا ہے اور جہاں ہے وہاں بھی چوبیسوں گھنٹے سپلائی نہیں دی جاتی ،بعض علاقوں میں ابھی بھی لوگ ندیوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں ،چھوٹے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں کی بڑی تعداد ابھی بھی جنگل میں رفع حاجت کرنے جاتی ہے ،قصبوں اور دیہاتوں میں 18سے 20گھنٹے تک کی بجلی کٹوتی کی جاتی ہے ،بعض قصبوں میں ایک بھی اسپتال یا طبی سینٹر ایسا نہیں ہے کہ وہاں مریض کو فوری طور پر طبی سہولتیں مل جائیں ،اور جہاں ہیں وہاں سہولتیں نہیں ملتیں،ڈاکٹروں کی قلت کے باعث عوام بے حدپریشان ہیں ،60ہزار سے زیادہ آبادی پر مشتمل دہلی سے صرف 150کلو میٹر کی دوری پر اترپردیش کے جے پی نگر کا قصبہ نوگانواں سادات اس پر گواہ ہے کہ یہاں کوئی MBBSڈاکٹر نہیں ہے ،اور ڈاکٹروں کی قلت کے باعث یہاں کے نو تعمیر ہیلتھ سینٹر کا افتتاح بھی نہیں ہوسکا ہے جب کہ اسے تیار ہوئے دوسال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہاں کے عوام علاج معالجہ کے لئے دور و دراز کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ، یہاں کے باشندوں کو 55کلومیٹر کا مرادآباد کا سفر بھی 3قسطوں میں طے کرنا پڑتا ہے کیونکہ اتنے بڑے قصبے میں روڈویز کی سروس برائے نام ہے اور ریلوے ہے ہی نہیں،ایسا ہی دوسرے قصبات کا حال ہوگا، پھر بھی ہماری ترقی کو امریکہ جیسا ملک تاریخی نظروں سے دیکھ رہاہے ! بعض قصبات میں تعلیم کا معقول بندوبست نہیں ہے اور جہاں ہے وہاں تعلیم کے نام پر ایسی لوٹ کھسوٹ ہورہی ہے کہ غریب ادھر کا رخ بھی کرتے ہوئے گھبراتے ہیں ، پھر بھی امریکہ ہماری ترقی سے متاثر ہے ! ، سروے رپورٹوں کے مطابق ہندوستان رشوت ستانی اور کرپشن کے چوتھے یا پانچویں پائیدان پر کھڑا ہے پھر بھی امریکہ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ رشوت اور کرپشن ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیتے ہیں ،ہمارے یہاں تو سڑکیں مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹوٹنے لگتی ہیں اور جب کوئی سرکاری پروجیکٹ شروع ہوتا ہے اور اس کے لئے رقم جاری ہوتی ہے تو اس کا ایسا بندر بانٹ ہوتا ہے کہ 50%رقم بھی اس پر خرچ نہیں ہوتی پھر بھی امریکہ کو ہماری ترقی متاثر کررہی ہے ؟!ہمارے یہاں 20کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے لئے بھی 2-2گھنٹے بس کا انتظار کرنے میں گزرجاتے ہیں اور امریکہ میں جو سفر 1گھنٹے میں طے ہوتا ہے اس کو ہمارے یہاں 5گھنٹے تک لگ جاتے ہیں پھر بھی امریکہ کو ہماری ترقی اچھی لگتی ہے ؟!ہمارے یہاں دہلی، ممبئی ، کولکاتہ، چنئی وغیرہ میں غریب لوگ جس طرح جھگیوں میں زندگی گزارتے ہیں اس سے زیادہ آرام دہ زندگی امریکہ میں کتے بلیوں کی گزرتی ہے ،پھر بھی امریکہ ہماری ترقی کو تاریخی نگاہ سے دیکھتا ہے !ہم لاکھوں ٹن غلہ سڑا گلا کر برباد کردیتے ہیں اور غریبوں تک نہیں پہنچنے دیتے اور اس غلے کو اگانے والے کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ،پھر بھی امریکہ کی نظر میں ہم نے ترقی کر لی ہے !ہمارے یہاں مظلوموں کو انصاف کے لئے عدالتوں میں دسیوں سال تک چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور ہماری پولس تو گفتگو کا آغاز ہی گالی سے کرتی ہے اور مظلوموں کی فریاد آسانی سے سرکاری ریکاڈ میں ﴿FIR﴾درج نہیں کرتی ،پھر بھی ہم امریکہ کی نظر میں ترقی کررہے ہیں !ہمارے یہاں غریب عورتیں پیٹ پالنے کے لئے سروں پر کھلے عام میلا ڈھوتی ہیں ،ہمارے یہاں کھانے پینے کی اشیائ میں کھلے عام زہر ملایا جاتا ہے ،ہمارے یہاں فرقہ واریت کا عفریت منھ کھولے بیٹھا رہتا ہے ،ہمارے یہاں تو اپوزیشن پارلیمنٹ میں اجلاس تک نہیں ہونے دیتی ،ہمارے یہاں تو سیاسی رقابت میں ترقیاتی اسکیموں اور کاموں میں خوب روڑے اٹکائے جاتے ہیں ،ہمارے یہاں تو رزرویشن کے نام پر نااہلوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باصلاحیت امیدواروں کے حوصلے پست کئے جاتے ہیں ،ہمارے یہاں تو جان بوجھ کر ملک کی تقریباً35کروڑ مسلم آبادی کو ذلت کے غار میں ڈھکیلا جارہاہے ،ہمارے یہاں اگر کسی چیز کی قدر نہیں ہے تو وہ’’ وقت‘‘ہے پھربھی امریکہ کی نظر میں ہم نے ترقی کرلی ہے!ہمارے یہاں تو چپراسی سے لے کر وزرائے اعلیٰ تک رشوت خور ہیں ،پھر بھی ہماری ترقی امریکہ کو تاریخی نظر آرہی ہے !حالانکہ ہماری خداوند عالم سے ہر وقت یہی دعا رہتی ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان اتنی ترقی کرے کہ امریکہ بھی اس کے سامنے بونا نظر آئے مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوجائے کیونکہ کرپشن ترقی کا دشمن ہے اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ،اگر یہ رکاوٹیں واقعاً امریکہ کو نظر نہ آئیں تو اس کا پوری دنیا پر نگاہ رکھنے کا دعویٰ جھوٹ اور فریب ہے اور اگر یہ رکاوٹیں اسے معلوم ہیں اور پھر بھی ایسا بیان دیا ہے تو بھی جھوٹ بول کر گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ،امریکہ سے ترقی کے کتنے ہی بیان کیوں نہ دلوالئے جائیں سیاسی طور پر تو مفید ہوسکتا ہے مگر حقیقت نہیں بدل سکتی ، کیا امریکہ کی نظر میں پورے ملک کی دولت چند ساہوکاروں کی جیب میں جانے کا نام ترقی ہے؟ کیا امریکہ کی نظر میں ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعہ غریبوں کا خون چوسنے کا نام ترقی ہے ؟ کیا مہنگائی کے بہانے غریبوں سے دال بھات چھیننے کا نام ترقی ہے ؟ کیا بے روزگار نوجوانوں کا شہر بہ شہر روزگار کے لئے ٹھوکریں کھانا ترقی ہے ؟ کیا 35کروڑ کی مسلم آبادی سے کسی مسلمان کو وزارت عظمیٰ تک نہ پہنچنے دینا ترقی ہے ؟کیا ملک کی 30%مسلم آبادی سے سرکاری ملازمتوں میں 3%مسلمانوں کو بھی شامل نہ ہونے دینا ترقی ہے ؟کیا بدعنوان سیاسی لیڈروں کے ذریعہ ملک کا لاکھوں کروڑ روپیہ ملک سے باہر پہنچادینا ترقی ہے؟ امریکی سربراہ ہندوستان کی پانچ ستارہ ہوٹلوں تک ہی محدود ہوتے ہیں اگر وہ یہاں کے قصبات ،دیہات اور چھوٹے شہروں پر نگاہ ڈال لیں تو انہیں اندازہ ہوجائے گا کہ ان کے بیان میں کتنی صداقت ہے ، در اصل مہنگائی نے ہندوستان کے شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ،ادھر کرپشن سے ہر ہندوستانی کراہ رہاہے لہٰذا ایسے موقع پر مرکزی حکومت امریکہ سے بار بار یہ بیان دلواکر عوام کی نگاہ میں اپنی امیج بڑھانا چاہتی ہے ، تاکہ غریبوں کی فریاد امریکہ کے سرکاری بیانوں میں گم ہوکر رہ جائے .

+ نوشته شده در  دوشنبه هفدهم مرداد 1390ساعت 10:39  توسط پیغمبر نوگانوی  | 


عربوں کی خاموشی .کمزوری یا مجبوری؟

پیغمبر نوگانوی

رسول اسلام (ص) نے قبیلوں میں منقسم و منتشر عربوں کو اپنی حکمت عملی سے ایسا متحد کردیا تھا جس سے ’’ عبداللہ بن اُبئی‘‘ جیسے منافق او ر اس کے چیلوں کی تمام سازشیں ناکام ہوکررہ گئیں تھیں ،عقد مواخات اس کی بہترین مثال ہے ،جب مہاجر و انصار آپس میں دست و گریباں ہو نے کو تیار تھے اور عبداللہ بن ابئی منافق اس افتراق کو ہوا دے رہاتھا تو حضور(ص) نے اپنی حکمت عملی اور دور اندیشی سے مہاجر و انصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا جس سے مسلمانوں کو فتنوں اور بربادی سے نجات مل گئی تھی ،یہ حضور(ص) کی سیرت کا ایسا پہلو ہے جو مسلمانوں کی قسمت بدل سکتا ہے ،ہمارے علمائ سیرت نبوی کے نام پر کنگھی، سرما، عطر، مسواک اور اونچا پائجامہ تو بیان کرتے ہیں مگر سیرت نبوی (ص) کے اس بہترین پہلو پر کبھی توجہ نہیں کرتے ،ہندوستان میں مسلمانوں کے آئے دن بڑے بڑے اجتماعات ہوتے رہتے ہیں جس میں لاکھوں مسلمان شریک ہوتے ہیں اور کروڑوں روپیہ خرچ ہوتے ہیں لیکن حضور(ص) کی سیرت کے اس گوشہ کی طرف دھیان نہیں دیاجاتا ،کتنا اچھا ہوتا اگر ان اجتماعات میں مسلمانوں کے درمیان اخوت و اسلامی برادری کو رواج دیاجاتا،لیکن افسوس ! بجائے اس کے کہ مسلمانوں میں اخوت قائم کی جائے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے جاتے ہیں اور نفرتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم کردیا جاتا ہے ،یقینا ایسے لوگ سنت نبوی سے کوسوں دور ہیں . خود ساختہ برادریوں اور مکاتب فکر کی دلدل سے مسلمان ابھی نکلنے بھی نہ پائے تھے کہ عالمی پیمانے پر استعمار نے عرب لیگ جیسے ادارے بنواکر قوم پرستی کو عربوں میں بڑھاوا دے دیا اور جو عرب تمام دنیا کے مسائل اور مشکلات پر نظر رکھتے تھے اب وہ عرب لیگ سے باہر نہیں جھانکتے.عالم اسلا م کا سب سے حساس مسئلہ ،مسئلہ فلسطین ہے ،مسلمانوں کا قبلہ اول یہودیوں کے قبضے میں ہے اورصیہونیوں نے فلسطینی مسلمانوں کو عرصۂ دراز سے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رکھا ہے ،لیکن عربو ں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے ،فلسطین تو ایک مثال ہے ورنہ عالم اسلام میں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک ہوجائے ،اُن کے آشیانے اجاڑ دیئے جائیں اُن کی بستیاں ویران کردی جائیں اُن کا اقتصاد تباہ کردیا جائے اور ناموس کی حرمت پامال کردی جائے عربوں کو ان سب مسائل سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی البتہ ظالموں کے خلاف مذمتی بیان جاری کرنے میں زحمت ضرور ہوتی ہے . فلسطین کے غزہ کی تازہ ترین صورت حال نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی ہے لیکن عربوں کی خاموشی اب بھی نہیں ٹوٹی،اسرائیل و دیگردشمنان اسلام کے مقابلے میں عربوں کی خاموشی سمجھ میں نہیں آتی ، اکثر و بیشتر یہ دیکھا گیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں خاموشی یا تو کمزوری کے سبب اختیار کرنا پڑتی ہے یا مجبوری میں، لیکن جب ہم عربوں کے جغرافیے کا مطالعہ کرتے ہیں تو اسرائیل کے مقابلے عرب کسی لحاظ سے بھی کمزور نظر نہیں آتے ،اگر اسرائیل ایٹمی طاقت ہے تو یہ طاقت عربوں کے خلاف استعمال نہی کرسکتا کیونکہ اس کی رینج میں خود بھی آتا ہے ،اگر اسرائیل کے پاس غیر ایٹمی جدید ترین ہتھیار ہیں تو وہ بھی جب حزب اللہ جیسی چھوٹی سی جماعت کے مقابلے میں ناکارہ ثابت ہوگئے تو پھر عرب حکومتیں تو حزب اللہ سے زیادہ طاقتور ہیں ،اگر اسرائیل کی موساد دنیا کی خطرناک ترین اور طاقتو ر ترین خفیہ ایجنسی ہے تو یہ ایجنسی جب حسن نصراللہ کے مقابلے ناکام ہوچکی ہے تو پھر عربوں کو اس کا کیا خوف؟اگر اسرائیل کی اقتصادی حالت بہت مضبوط ہے تو یہ بھی عربوں کی مرہون منت ہے ،اگر عرب چاہیں تو ایک ہفتے میں اسرائیل کی کمر مع امریکہ کے توڑ سکتے ہیں ،ان تمام باتوں سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسرائیل کے مقابلے عربوں کی خاموشی کمزوری کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ عرب حکمراں اسرائیل کے خلاف زبان نہ کھولنے پرمجبور ہیں،لیکن وہ مجبوری ہے کیا؟ جس کی وجہ سے عرب ممالک اپنا سب کچھ لٹتے دیکھ رہے ہیں پھر بھی خاموش ہیں . اس کا پتہ لگانے کے لئے ماضی میں جھانکنا ہوگا ، برطانوی سامراج کے جاسوس ہمفرے نے جب متحدہ سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور حجاز مقدس کو محمد بن عبدالوہاب اور محمد بن سعود کے حوالے کردیا اور محمد بن سعود کو عربوں کے سیاسی امور سونپ دیئے جس سے عربستان ’’سعودی عرب‘‘ بن گیا اور محمد بن عبد الوہاب کو مذہبی امور سونپے جس سے ’’وہابی مکتب فکر ‘‘وجود میں آیا ،چونکہ اِن محمدین کو یہ اقتدار برطانیہ کی بدولت نصیب ہوا تھا لہٰذا حجاز مقدس میں برطانیہ کی اطاعت کی جانے لگی ،اسی طرح دوسری چھوٹی چھوٹی عرب ریاستوں میں تخت نشینی ہونے لگی اور جو بھی تخت پر بیٹھتا وہ برطانیہ کا وفادار بہر حال رہتا . جب برطانوی سامراج بوڑھا ہوگیا تو اس کی باگ ڈور امریکہ کے ہاتھ میں آگئی اور عرب کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی گدی پر شیوخ کی تخت نشینی امریکی CIAکے ذریعے ہونے لگی ،چونکہ امریکہ کرسی پر بٹھاتے وقت یہ حلف ضرور لیتا ہوگا کہ ’’اسرائیل کے خلاف زبان نہیں کھولو گے‘‘ لہٰذا اس حلف کی پاسداری اور کرسی کا خطرہ عرب سربراہوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اسرائیل یا امریکہ کے خلاف زبان نہ کھولیں ،حالانکہ یہ عمل کلمہ طیبہ میں کئے گئے اقرار کے خلاف ہے ،جو مسلمان بھی کلمہ طیبہ دل سے پڑھتا ہے تو وہ کلمہ کے پہلے ہی جزئ ﴿لا الہ﴾ میں تمام غیر حقیقی معبودوں کا انکار کرتا ہے ،چا ہے وہ پتھر اور لکڑی سے تراشے ہوئے بتوں کی شکل میں ہوں یا طاقت و اقتدار اور کرسی کی صورت میں ہوں یا زر و جواہر کی شکل میں ،جب ایک مسلمان ان غیر حقیقی معبود وں کا کلمہ طیبہ میں انکار کردے توپھر کیسے ممکن ہے کہ امریکہ و اسرائیل جیسی مصنوعی طاقتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے ،عالمی بینک جیسے بت کے سامنے سر کو جھکالے ،لہٰذا اگر عرب حکمران کلمہ طیبہ پر دل سے عمل کرلیں اور اس کے فلسفے کو سمجھ لیں تو ان کی یہ مجبوری دور ہوسکتی ہے اور وہ بھی ایرانی قیادت کی طرح بے باک، بہادر اور اسلام کے سپوت بن سکتے ہیں .دوسری وجہ عربوں کی مجبوری کی یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جب عرب حکمران امریکہ اور یورپ کے دوروں پر جاتے ہیں تو وہاں پانچ ستارہ ہوٹلوں میں سرکاری مہمان ہوتے ہیں اور ان کے لئے ان ہوٹلو ں میں عیش و عشرت کے تمام سامان مہیا ہوتے ہیں اور ان حکمرانوں کی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی حرکتوں پر خفیہ کیمرے نگاہ رکھتے ہوں گے اور ساتھ ہی عیش و عشرت کے ان مناظر کو محفوظ بھی کرلیتے ہوں گے اور وطن واپسی پر یہ فلمیں انہیںدکھاکر کہتے ہوں گے کہ اگر ہمارے یا اسرائیل کے خلاف زبان کھولی تو پوری دنیا میں یہ فلمیں نشر کردی جائیں گی جس سے تمہاری عزت اور اقتدار دونوں خطرے میں پڑ جائیں گے ،یہ سن کر بے چارے مجبور ہوجاتے ہوں گے اور پھر امریکہ یا اسرائیل مسلمانوں کے ساتھ کیسی ہی زیادتی کیوں نہ کرلیں عربوں کی مجبوری ہے کہ وہ خاموش رہیں.اس مجبوری کا حل بھی موجود ہے ،پہلا تویہ کہ ایران کی طرح عربوں کو بھی اپنے ممالک میں آزادانہ اور شفاف الیکشن کراکے اسلامی جمہوری نظام قائم کرلینا چاہئے تاکہ بجائے CIAکے خود ان کی عوام انہیں کرسی پر بٹھائیں، دوسرے یہ کہ عرب حکمرانوں کو مغرب کی تقلید کے بجائے اسلام کے صحیح اصولوں پر عمل کرنا چاہئے تاکہ ہوٹلوں میں کتنے ہی عیش و عشرت کے سامان فراہم ہوں مگر ان کا دامن آلودہ نہ ہوں اور اس طرح امریکہ انہیں بلیک میل نہ کرسکے اوراس طرح وہی صدر اسلام والی قوت گویائی اور حوصلہ پلٹ سکتا ہے جس سے کوئی بھی عرب کسی بھی مسلمان کی مصیبت پر خاموش نہ بیٹھ سکے گا.

+ نوشته شده در  پنجشنبه ششم مرداد 1390ساعت 21:47  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

اسلامی جہاد معاشرے کی اصلاح کا بہترین ذریعہ

پیغمبر نوگانوی

دنیا میں ہر حاکم کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی رعایا سب سے اچھی ہو اور انسانی و اخلاقی اقدار سے دور نہ ہوجائے ،جو حاکم صالح نہیں بھی ہوتے وہ بھی بظاہر ایسا ہی دکھاوا کرتے ہیں حتی کہ غیر مذہبی حکومتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان کی رعایا اور معاشرہ اخلاقی اقدار کو گم نہ کردیں کیونکہ جس معاشرے میں اخلاقی زوال آجاتا ہے وہ منتشر ہوکر برباد ہوجاتا ہے .شہروں ،بستیوں ،قصبوں اور دیہاتوں میں امن کمیٹیاں اور سماج سدھار تنظیمیں اور پولس و انتظامیہ کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی اس کی اہمیت کو بیان کرتی ہے .پوری دنیا کے اصلاح معاشرہ کے لئے یہ اقدامات ایک طرف اور اسلامی جہاد ایک طرف ،اسلامی جہاد سے معاشرہ جیسا صاف ستھرا اور پُر امن رہتا ہے ایسا کسی بھی ذریعہ سے نہیں رہ سکتا ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جس کی بدولت خود بخود ہر انسان اپنے آپ پر نگاہ رکھتا ہے اور اپنا محاسبہ کرکے آلودگیوں سے بچنے کے راستے فراہم کرتا ہے ،اسے ہم جہاد بالنفس کہتے ہیں ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جس کی وجہ سے ہر مسلمان اپنا فرض سمجھتا ہے کہ وہ اپنے قلم کو معاشرے کی اصلاح و بھلائی میں استعمال کرے ،اسے جہاد بالقلم کہا جاتاہے ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جو انسانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے برائیوں کو نہ پھیلنے دیں اسے جہاد بااللسان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،یہ اسلامی جہاد ہی ہے جو معاشرے پر ہر قسم کے اٹیک کو ڈفینس کے ذریعہ روکنے کی تاکید کرتا ہے،ڈفینس صرف تلوار یا دیگر اسلحہ سے ہی نہیں ہوتا بلکہ معاشرے پر چاہے اقتصادی حملہ ہو یا مخرب اخلاق فلموں اور سیریلوں کے ذریعہ ثقافتی یلغار ہو دفاع کرنا ضروری ہے ،بعض نادان لوگ مخرب اخلاق فلمیں دکھانے والے سینما گھروں کے مالکوں کو دھمکیاں دیتے ہیں یاپھر بم سے اڑادیتے ہیں یہ طریقۂ کار اسلامی جہاد کے منافی ہے،اس کے دفاع کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اخلاقی قدروں پر مبنی فلموں ،سیریلوں اور لٹریچر کی معاشرے میں فراوانی کردی جائے .لوگوں نے جہاد کو بغیر سمجھے اسے بدنام کرنا شروع کردیا، بدنام کرنے والوں میں ایسے بھی تھے جو اسلامی جہاد کے فلسفے سے اچھی طرح آشنا تھے مگر معاشرے میں اخلاقی اصول و ضوابط کو پنپتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے لہٰذا انہوں نے اسلامی جہاد کی مخالفت کرکے اسے دہشت گردی کا نام دے دیا ،ایسے یہودی یا عیسائی نظریہ پرداز اگر تنہا خود یہ کام انجام دیتے تو اتنا کامیاب نہ ہوتے جتنا مٹھی بھر جاہل مسلمانوں کو استعمال کرکے ہوئے کیونکہ ان مسلمانوں نے جو بھی غیر اخلاقی و غیر انسانی کام انجام دیئے وہ جہاد ہی کے نام پر دیئے جس سے پوری دنیا میں جہاد جیسا معاشرہ ساز فریضہ نفرت میں تبدیل ہوگیا اور ڈر ہے کہ کہیںاس مقدس فریضہ کو جرم نہ بنا دیا جائے اور پھر اس کے لئے کوئی دفعہ بھی ایجاد کرلی جائے.ڈکشنری میں جہاد کے معنی کوشش کے ہیں اور یہ کوشش چاہے کسی بھی کام کے لئے کی جائے جہاد کہلائے گی اور اصطلاح میں معاشرے سے برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کی راہ میں کوشش کرنا جہاد کہلاتا ہے ،اسی لئے اسلامی روایات میں جہاد کی درجہ بندی میں سب سے اوپر جہاد بالنفس﴿اپنے نفس سے جہاد کرنا﴾رکھا گیا ہے یعنی اپنے نفس کو خواہشات کی پیروی اور برائیوں سے روکنا ،روایات میں اسے ’’جہاد اکبر ‘‘کا نام دیاگیا ہے یعنی سب سے بڑا جہاد ،جب ہر انسان اسلامی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے نفس کو برائیوں اور خواہشات کی پیروی سے دور رکھنے کے لئے جد و جہد کرے گا تو یہ معاشرہ جنت نظیر بن جائے گا نہ پولس کی ضرورت ہوگی نہ عدالتوں پر کروڑوں خرچ کرنے پڑیں گے، جہاد بالنفس سے خود بخودپورا معاشرہ مہذب اور با اخلاق ہو کر راحت و سکون کے ساتھ اپنی منزلیں طے کرے گا ،اسلامی روایات میں جہاد باللسان کو دوسرے درجہ میں رکھا گیا ہے یعنی برائی کو دیکھ کر انسان خاموش نہ رہے بلکہ برائی کو برا ضرور کہے،اس جہاد کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہتے ہیں ،زمانہ اتنا دگر گوں ہوگیا ہے کہ برائی کرنے والے کو برائی سے کوئی نہیں روکتا بلکہ سب اسی کو برا بھلا کہتے ہیں جو برے کو برا کہتا ہے ،ایک طرف تو معاشرہ علمائ پر یہ الزام تراشی کرتا ہے کہ علمائ حضرات معاشرے کو سدھارنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے دوسری جانب اگر کوئی شخص کسی شخص کی برائی پر نگاہ رکھتا ہے اور اسے ٹوکتا ہے تو یہی معاشرہ کہتا ہے کہ میاں تمہیں کیا مطلب ؟ جو کر رہاہے کرنے دو ،اس کو اگر برائی پر ٹوکو گے تو معاشرے میں اس سے انتشار پھیلے گا ،یہ منطق برائی کوسماج میں پھیلانے کے لئے ایجاد کی گئی ہے اور اسلامی تعلیمات کے سو فی صد خلاف ہے ،قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : ’’ ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر و اولئک ھم المفلحون‘‘اور تم میں سے ایک گروہ کو ایسا ہونا چاہئے جو خیر کی دعوت دے ،نیکیوں کا حکم دے ،برائیوں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات یافتہ ہیں ،یہ جہاد اسلام کے نظام کا ایسا جزو ہے جو خود بخود معاشرے کی نگرانی کرتا ہے ،ہر انسان اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کو اس کے اعمال و رفتار سے آگاہ کرتا ہے اور یہاں یہ مثل صادق آتی ہے کہ : ’’مومن ،مومن کا آئینہ ہے‘‘اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں برائیوں کو روکنے اور اچھائیوں کو پھیلانے کا ایسا طریقہ نہیں پایا جاتا ،یہ شرف تو صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ معاشرے میں ہر قسم کے فساد کا مخالف ہے جو اس دنیا میں ہر صالح حکومت اورحاکم کی تمنا ہوتی ہے،اس کے بعد جہاد بالقلم یعنی معاشرے کو سدھارنے کے لئے قلم کے ذریعہ کوشش کی جائے ،اس جہاد کے بھی بے حد ثواب ہیں اور اس کا درجہ تلوار کے جہاد سے بڑا ہے ،قول معصوم ہے کہ : ’’عالم کے قلم کی سیاہی کا قطرہ شہید کے خون سے افضل ہے‘‘ اس روایت میں واضح طور پر جہاد بالسیف یعنی تلوار کے جہاد پر قلم کے جہاد کی فضیلت کو بیان کیاگیا ہے ،قلم کے ذریعہ کیاگیا جہاد سب سے زیادہ دیر پا ہوتا ہے ،تقریریں ذہنوں سے محو ہو سکتی ہیں لیکن قلمی کاوشیں کتابوں اور لٹریچر کی شکل میں زیادہ عرصہ تک محفوظ رہتی ہیں،جس سے کئی کئی نسلیں استفادہ کر سکتی ہیںاسی لئے جہاد بالقلم کی بہت تاکید ہے. اس کے بعد جہاد مالی ہے یعنی مال کے ذریعہ معاشرے کی فلاح و بہبود کا انتظام کرنا تاکہ معاشرے میں جرائم کا گراف بڑھ نہ جائے ،تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ معاشرے میں جرائم فقر و ناداری کی وجہ سے زیادہ ہوتے ہیں،لہٰذا اس راہ میں صاحب استطاعت لوگ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرکے ایسے جرائم کو روک سکتے ہیں ،مال خرچ کرنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ تھوڑا بہت دے کر فقیری کی لت کو پروان چڑھایا جائے بلکہ نادار شخص کو اس کے پیروں پر کھڑا کردیا جائے ،ایسا کرنے سے معاشرہ خود بخود پر سکون ہوجائے گا،سب سے نچلے طبقے میں جہاد بالسیف یعنی معاشرے کی اصلاح اور اُس پر ہونے والے حملوں کے دفاع میں اسلحہ اٹھانا ،اگر ہم تاریخ یعقوبی ،الامامہ والسیاسہ، وقعہ صفین ،شرح نہج البلاغہ، بحار الانوار ،تاریخ طبری، مروج الذہب وغیرہ تاریخی کتابوں کا مطالعہ کریں تو بزرگان اسلام کے لکھے ہوئے سیکڑوں خطوط اور کئی گئی تقریریں مل جائیں گی جو اِن بزرگوں نے معاشرے کے دفاع اور راہ خدا میں تلوار چلانے سے پہلے مد مقابل سے جہاد بالقلم اور جہاد بااللسان کے طور پر کیںبالخصوص امام حسین (ع) نے میدان کربلا میں تو اس کا بہت زیادہ اہتمام کیا 10محرم 61ہجری سے پہلے تک آپ برابر جہاد بااللسان اور جہاد بالقلم فرماتے رہے حتی کہ جب آپ تنہا رہ گئے اُس وقت بھی آپ نے ان جہادوں کو ترک نہ فرمایا اور آخری مرتبہ یزیدی فوج کو مخاطب کرکے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ : ’’ابھی بھی اگر تم راہ راست پر آجاؤ تو میں اپنے اصحاب اور اولاد کی دردناک شہادت کو بھلا سکتا ہوں ‘‘امام عالی مقام نے اس وقت تلوار چلائی جب یزیدی فوج نے کسی بھی ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ،عالم اسلام میں اس سے اچھی مثال جہاد بالسیف کے نچلے پائیدان میں ہونے کی نہیں مل سکتی ،اور یہ اجازت بھی اسلام نے شاید اس لئے دے دی کہ اس کی نظر میں اصلاح معاشرہ بہت اہم ہے .اسلام دشمن عناصر اس جہاد کو قتل و غارت گری سے تشبیہ دیتے ہیں جو کہ غلط ہے، چونکہ اسلام عالم انسانیت کے لئے امن کا پیغام لے کر آیا تھا لہٰذا وہ طاقتیں جو معاشرے کے کمزور لوگوں کا خون چوس رہی تھیں اور ان کو سودی قرضوں میں جکڑ کر غلام بنا چکی تھیں اسلام کے اس پیغام سے بوکھلا گئیں اور ہر طرح کی مخالفت شروع کردی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے ،لہٰذا اسلام نے بھی مسلمانوں کو اپنے دفاع کا حق دیاہے جس کو عقل بھی تسلیم کرتی ہے.

+ نوشته شده در  سه شنبه بیست و هشتم تیر 1390ساعت 17:5  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

جو نہیں جانتے کربلا کیا ھے

پیغمبر نوگانوی

عام انتخابات کا زمانہ ہے، برساتی مینڈک کی طرح لیڈران نمودار ہورہے ہیں اور کرسی کی خاطر ہر چہارسو لفظی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے، اس لفظی جنگ میں تمام پارٹیاں اور لیڈران ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں .چونکہ ہمارے ملک ہندوستان میں اکثر لیڈران ایسے ہیں جو اخلاق، کردار، مروت، صلہ ٔ رحم، محبت ، اخوت جیسی انسان ساز اصطلاحوں سے نا آشنا ہیں اور سیاست میں دھوکہ ،جھوٹ، فریب، مکر، قتل جیسے انسانیت سوز جرائم کو روا جانتے ہیں، اس لئے لفظی جنگ میں ضابطہ ٔ اخلاق کی خلاف ورزی اور عوام کی دل آزاری عام بات ہے، بی جے پی کے پیلی بھیت سے امیدوار ورون گاندھی کی زہر پاشی کے بعد ایک اور واقعہ ردولی کے ریچھ گھاٹ میں پیش آیا جس میں بہوجن سماج پارٹی کے کمانڈر نسیم الدین صدیقی نے اپنی سینا ﴿بہوجن سماج پارٹی کارکنان﴾ کو امام حسین (ع) کے ساتھیوں سے تشبیہ دے کر پوری انسانیت کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ،نسیم الدین صاحب ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ بی ایس پی کے بعض کارکنان میں کون کونسے عیب پائے جاتے ہیں ،سبھی پارٹیوں کے اکثر کارکنان شراب نوشی، عیاشی ، قتل، جھوٹ، مکر، نفاق جیسے گناہان کبیرہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں چاہے مجبوری ہی میں کیوں نہ ہوں ،لیکن امام حسین (ع) کے ساتھی گناہ صغیرہ سے بھی ڈرتے تھے، سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اپنی وفاداریاں ذاتی مفاد کی خاطرلمحوں میں تبدیل کر ڈالتے ہیں لیکن امام حسین (ع) کے ساتھی ایسے تھے جنہوں نے گردنیں کٹادیں لیکن وفاداریاںتبدیل نہ کیں ،شب عاشور جناب زینب (ع) نے امام حسین (ع) سے کہا کہ بھیا اپنے ساتھیوں کو اچھی طرح آزمالیا ہے ،یہ بات زہیر بن قین نے سن لی ،امام (ع) کے ساتھیوں کو جمع کیا اور کہا کہ غضب ہوگیا شہزادی زینب کو ہماری وفاداری پر یقین نہیں ہے ،سب ساتھی جناب زینب کے خیمے کے باہر جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ بی بی یہ تلوار لو اور اپنے ہاتھ سے ہماری گردنیں کاٹ دو.امام حسین (ع) نے روز عاشور فرمایا تھا کہ جیسے ساتھی مجھے ملے ایسے نہ میرے بھائی حسن مجتبیٰ کو ملے اور نہ بابا و نانا کو ملے،جب علی (ع)و نبی(ص) کو بھی امام حسین (ع)جیسے باوفاساتھی نہ ملے تو سیاسی پارٹیاں اور ان کے کارکنوں کی وفاداریوں کی حیثیت ہی کیا ہے، امام حسین (ع) کے ساتھیوں کی عظمت کے لئے امام حسین (ع) کی یہی سند کافی ہے اور یہ وہ معیار ہے جو قیامت تک باقی رہے گا، نسیم الدین صاحب اپنی پارٹی میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں ایسا بوڑھا تلاش کرکے دکھائیں جس میں امام حسین (ع) کے بوڑھے ساتھی حبیب ابن مظاہر جیسا نصرت حق کا جذبہ پایا جاتا ہو، ہوسکتا ہے بوڑھے کے جذبہ شہادت کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیاجائے کہ دنیا اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہوچکے تھے ،قریب مرگ تھے لہٰذا نصرت حق میں شہید ہوکر اپنی موت کو جاودانی بنالیا لیکن 18سال کا وہ نوجوان جو پورے شباب کی منزلوں میں ہو اور اس کی شادی بھی نہ ہوئی ہو وہ اطاعت امام اور نصرت حق میں شہادت پیش کردے !،حالانکہ اس عمر میں نوجوان صرف شادی اور دنیا کی راعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کی تمنا کرتے ہیں ،کیا امام حسین (ع) کے اس نوجوان جاںنثار﴿حضرت علی اکبر﴾ کی پیروی کرنے والا کوئی نوجوان بہو جن سماج پارٹی یا کسی دوسری سیاسی پارٹی میں موجود ہے؟نہیں !یہاں تو کوئی نہیں ہے لیکن لبنان و ایران میں شہدائے کربلا کی پیروی کرنے والے ہزاروں افراد موجود ہیںمگر وہ بھی اپنے آپ کو امام حسین (ع) کے ساتھیوں سے تشبیہ نہیں دیتے ،لبنان کی حزب اللہ کے ہزاروں کارکن امام حسین (ع) کے ساتھیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہید ہوچکے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ ہر وقت اپنے آپ کو شہادت کے لئے آمادہ رکھتے ہیں لیکن پھر بھی حسن نصر اللہ یہ نہیں کہتے کہ میرے ساتھی امام حسین (ع) کے اصحاب باوفا جیسے ہیں،ہاں یہ اعتراف ضرور کرتے ہیں کہ حزب اللہ نے جذبہ ٔ شہادت شہدائے کربلا سے سیکھا ہے ،حتی کہ حسن نصر اللہ کا 18سال کا بیٹا﴿ہادی﴾ جب شہید ہوا تب بھی حسن نصر اللہ نے اپنے اس جوان بیٹے کوامام حسین (ع) کے جوانوں سے تشبیہ نہ دی بلکہ یہ کہا کہ اب میں بھی شہدائے لبنان کے اہل خانہ سے ملاقات کرسکتاہوں اس سے پہلے مجھے شرم آتی تھی،اس بیان سے حسن نصراللہ کی مقبولیت کا گراف بہت اوپر پہنچ گیا تھا کیونکہ عوام نے اپنے لیڈر کے بیٹے کو شہید ہوتے دیکھا تھا اور اس پر لیڈر کو کسی قسم کے افسوس کے بجائے خوشی کا احساس تھا ،عوام کو تو یہی معلوم ہے کہ لیڈران کے بیٹے تو حَسین بنگلوں میں مکمل آسائش کے ساتھ عیش و عشرت کو داد دیتے ہیں .جس طرح مثالی خواتین کربلا میں اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو اپنے ہاتھوں سے سنوار کر نصرت حق کے لئے قربان گاہ بھیج رہی تھیں اسی طرح لبنانی اور ایرانی خواتین بھی اپنے بیٹوں کو بھیجتی ہیں اور بیٹوں کی شہادت پر سجدۂ شکر بھی کرتی ہیں ،شہدائے کربلا کی اتنی محکم پیروی کے باوجود کوئی لبنانی اور ایرانی لیڈر اپنے جیالوں کو امام حسین (ع) کے ساتھیوں سے تشبیہ نہیں دیتا بس یہ کہتے ہیں کہ یہ جذبہ ہم نے کربلا سے سیکھا ہے، یہ تو اس صورت میں ہے کہ لبنانی اور ایرانی مسلمان معرفت کے ساتھ کربلا والوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور وہ لوگ جو کربلا کو جانتے بھی نہیں وہ کیسے شہدائے کربلا جیسا ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں، نسیم الدین صاحب ! آپ کی پارٹی اور اس کی سپریمو کا مقصد صرف دلی کی راج گدی تک پہنچنا ہے اور امام حسین (ع) کے ساتھیوں کا مقصد اطاعت امام ،نصرت حق اور باطل سے مقابلے کی مثالیں قائم کرکے اسلام کو بچانا تھا، لہٰذا آپ کی پارٹی کے مقصد اور امام حسین (ع) کے ساتھیوں کے مقصد میں زمین آسمان کا فرق ہے اور ان دونوں مقاصد کا آپس میں تقابل بھی نہیں ہوسکتا ،نسیم الدین صاحب آپ اور آپ کی پارٹی اقتدار حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں،مثلاً بی جے پی ہندوستانی مزاج کے برخلاف سیکولرزم پر یقین نہیں رکھتی ہے جس کی وجہ سے لوگ اسے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے یہی بی جے پی اگر آپ کی پارٹی کو دہلی تک پہنچانے کی حامی بھرلے تو آپ اس سے بھی ہاتھ ملالیں گے ،چاہے ملک میں سیکولرزم کا جنازہ ہی کیوں نہ نکل جائے لیکن امام حسین (ع) کے ساتھی ایسے نہ تھے ،اپنے زمانے کی سپرپاور ڈکٹیٹر یزیدی حکومت نے بڑے بڑے لالچ اور دھمکیاں دے کر امام حسین (ع) کے ساتھیوں کو ان سے علیحدہ کرنا چاہا لیکن ایک بھی ساتھی آپ (ع)سے علیحدہ نہ ہوا ،آپ کی پارٹی ایک خاص طبقہ کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے جب کہ کربلا والوں نے پوری انسانیت کی حفاظت کی ہے.ہم آپ کی پارٹی کے دوسرے کارکنوں کی بات نہیں کرتے بلکہ آپ ہی کی مثال پیش کرتے ہیں ،فرض کیجئے اگر ملائم سنگھ یادوآپ کو محترمہ مایاوتی سے زیادہ اختیارات اور سہولتیں دے دیں تو آپ فوراً ملائم سنگھ کی گود میں چلے جائیں گے ،کیونکہ آپ نے تھوڑے سے لالچ میں شراب کی وزارت سنبھال لی جب کہ علمائ اسلام نے آپ کو بہت سمجھایا کہ یہ دین کی کھلم کھلا مخالفت ہے ، امام حسین (ع) کے ساتھیوں کو گورنری سے وزارت تک کے لالچ دیئے گئے لیکن ایک بھی ساتھی کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی،تو پھر آپ یا آپ کی پارٹی کے کارکنان ،لشکرحسینی جیسا ہونے کا دعویٰ کس طرح کررہے ہیں؟یزیدی لشکر میں حکومتی پیمانے پر ہر قسم کا عیش و آرام میسر تھا اور خیام حسینی میں بھوک ،پیاس، قتل ہونے کا یقین اور تاراجی ٔ خیام کا خوف تھا اس کے باوجود امام حسین (ع) نے شب عاشور شمع گل کرکے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ رات کی تاریکی میں جہاں چاہے نکل جاؤمیں نے تم سے اپنی بیعت اٹھالی ہے ،کچھ دیر بعد جب امام (ع) نے دوبارہ شمع روشن کی تو تمام ساتھی اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ :مولا اگر ہمیں 70مرتبہ قتل کرکے 70مرتبہ زندہ کیا جائے تب بھی ہم آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے،نسیم الدین صاحب ! ہوسکتا ہے شب عاشور امام حسین (ع) نے اپنے ساتھیوں کا یہ امتحان آپ جیسے لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے لیا ہو تاکہ کبھی بھی ایسے پاکباز مجاہدوں کو اپنے بدکردار کار،لچے، لفنگے، بدمعاش، کارکنان سے کوئی مفاد پرست لیڈر تشبیہ نہ دے سکے ،مذکورہ چند مثالیں اس لئے پیش کی گئی ہیں تاکہ حقیقت واضح ہوجائے اسے اپنے بدکردار کارکنان کا امام حسین (ع) کے ساتھیوں سے موازنہ نہ سمجھنا.کربلاکا کسی خاص فرقے یامذہب سے تعلق نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کی آبرو کا نام کربلا ہے، جو شخص کربلا کی معرفت رکھتا ہے اور اسے انسانیت،کردار، اخلاق،مروت، قربانی ، ایثار، امربالمعروف اورنہی عن المنکرکی درس گاہ سمجھتا ہے ہر گز ایسے بیان نہیں دیتا ،ایسے بیان تو وہی دیتے ہیں : ’’جو نہیں جانتے کربلا کیا ہے‘‘

+ نوشته شده در  سه شنبه بیست و هشتم تیر 1390ساعت 16:51  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

منحو س کاروبار

 پیغمبر نوگانوی

قرآن مجید کی بہت ساری آیات اور سورے اکثرروحانی و جسمانی بیماریوں اور مشکلات میں مفید و کارآمد ہیں جن کی نشاندہی رسول اسلام (ص) اور آپ (ص) کے جانشینوںنے فرمادی ہے اور خدا کے نیک بندے اِن آیتوں اور سوروں کے ذریعہ مومنین کا علاج کرتے رہتے ہیں جس کا بے حد ثواب ہے ،لیکن ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کی نظر میں آیتوں کے تقدس سے زیادہ روپیہ پیسہ کی اہمیت ہوتی ہے جس کی خاطر یہ لوگ آیتوں کو فروخت کرنا شروع کردیتے ہیں اور پھراتنا آگے بڑھ جاتے ہیں کہ :جھوٹ،فریب ،دھوکہ،فتنہ پروری،شرک اور وسوسہ جیسی نحوستوں کے ذریعہ اپنے کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں،اس کاروبار میں نہ ہلدی لگتی ہے اور نہ پھٹکری﴿یعنی کوئی سرمایہ خرچ نہیں ہوتا﴾بلکہ معمولی کاغذ قلم اور وہمی گراہکوں کی ضرورت ہوتی ہے ،اکثر یہ کاروبار کرنے والے جاہل مطلق ہوتے ہیں لیکن اب اس میں مساجد کے امام بھی اپنا دامن آلودہ کرنے لگے ہیں ، ایسے پیش نماز کے پیچھے نماز نہیں ہوگی ،کیوں کہ :1یہ کاروبار جھوٹ کے ذریعہ چلتاہے اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے ،ارشاد ہوتاہے :’’. جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں‘‘﴿سورۂ آل عمران،آیت۱۶﴾ان کے پاس جب کوئی مریض آتاہے تو یہ چند رَٹے رٹائے امراض اِن کے لئے تشخیص کرتے ہیں جو جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں ، مثلاً: =کہتے ہیں کہ آپ پر خبیث،بھوت یا چڑیل ہے:خبیث ،بھوت یا چڑیل جسم خارجی نہیں رکھتے بلکہ یہ کردار کے نام ہیں ،مریض اگر بد عمل ہے توخود بھی خبیث ،بھوت یا چڑیل ہوسکتاہے اور یہ علاج کرنے والا بھی خبیث وغیرہ ہوسکتاہے،اور اس کا علاج چند آڑی ٹیڑھی لکیروں سے نہیں بلکہ سیدھے راستے پر چلنے اور نیک اعمال بجالانے سے ہوتاہے .ایک صاحبہ تعویذ کرنے والے کے پاس گئیں اور کہا کہ :’’میری چھوٹی بہن بہت بیمار ہے اس کی فال دیکھ دیجئے،تعویذ کرنے والے نے کہا کہ تمہاری بہن کا علاج تو بعد میں ہوگا پہلے اپنا علاج کراؤ تمہارے اوپر خبیث ہے جو تمہارا سارا چین و سکون چھین لے گا یہاں تک کہ تمہاری شادی بھی نہیں ہونے دے گا.‘‘یہ سن کر اِن صاحبہ کی ساتھیوں نے کہا کہ اِن کے توکئی بچے ہیں ،فوراً تعویذ کرنے والے نے پینترا بدلا اور بولے کہ:’’پھر تو بہت ہی بڑا خبیث ہے کہ شادی شدہ پر آیا ہے؟!‘‘=کہتے ہیں کہ آپ پر ہوا کا اثر ہے :ہوا کے اثر سے متعلق جب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ گندی روحوں کا اثر.یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ تمام روحیں خدا وند عالم کے قبضے میں ہوتی ہیں اسی لئے’’ قبض روح ‘‘کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے یعنی روحیں آزاد نہیں رہتیں کہ جو چاہے کرتی پھریں، اسلامی روایات و احادیث گواہ ہیں کہ مومن کی روح اِذنِ پروردگار سے ہی شب جمعہ اپنے گھر آتی ہے، جب مومن کی روح بغیر اذن پروردگارنہیں آجاسکتی تو گندی روحیں کس طرح مومنین کو ستانے کے لئے آزادنہ نکل پڑیں گی،کیا خدا وند عالم گندی روحوں کو یہ اجازت دے گا کہ وہ مومنین کو ستائیں ؟ اور گندی روحیں تو اپنے بُرے اعمال کی سزا کاٹنے میں مصروف رہتی ہیں ،انہیںکسی کو ستانے کا ہوش کہاں رکھا ہے،لہٰذا یہ بھی جھوٹ ہے کہ گندی روحیں مومنین کویااللہ کے دیگر بندوں کو ستاتی ہیں ،=کہتے ہیں کہ’’ چوکی‘‘ چُھڑوادی ہے:پوچھا ’’چوکی ‘‘کیا چیز ہے تو کہنے لگے کہ ایک مٹی کی ہانڈی میں ہلدی ،مرچ وغیرہ رکھ کر مورد نظر شخص کا آٹے وغیرہ سے پُتلا بنا کر رکھا جاتاہے اور اس ہانڈی کو جنگل میں چھوڑ دیاجاتاہے ،ایسا کرنے سے جس کا پُتلا ہوتاہے وہ شخص یا تو مرجاتاہے یا بیمار رہنے لگتاہے ،ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرکے اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہئے کیوں کہ اس عقیدہ سے کفر و شرک لاز م آتاہے ، موت و حیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہے،قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے کہ :’’﴿اے رسول(ص)!﴾ کیا تم نے ان لوگوں ﴿کے حال پر﴾ نظر نہیں کی جو موت کے ڈر کے مارے اپنے گھر وں سے نکل بھاگے اور وہ ہزاروں آدمی تھے تو خدا نے ان سے فرمایا کہ سب کے سب مرجاؤ ﴿اور وہ مرگئے﴾ پھر خدا نے انھیں زندہ کیا‘‘﴿سورۂ بقرہ،آیت ۳۴۲﴾مگر ’’چوکی ‘‘پر عقیدہ رکھنے والوں کے نزدیک موت وحیات اس مٹی کی ہانڈی یا اس کو جنگل میں چھوڑنے والے سے وابستہ مان لی جاتی ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی قدرت و طاقت سے زیادہ ’’چوکی‘‘چھوڑنے والے کی طاقت ہے ؟! ﴿نعو ذ باللہ ﴾بے شک اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے،ارشاد خداوندی ہوتاہے :’’سارے آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے وہی زندہ کرتاہے وہی مارتا ہے اور وہی ہرچیز پر قادر ہے‘‘﴿سورۂ حدید ،آیت ۲﴾اس کے علاوہ اگر اِن باتوں میں ذرا بھی صداقت ہوتی تو آج کل ملکوں میں کروڑوں اربوں روپئے فوج پر خرچ نہ کئے جاتے بلکہ جس ملک کے خلاف جب چاہتے ’’چوکیاں‘‘ جنگل میں چھوڑ دیاکرتے اور بس وہ ملک تباہ ہوجایا کرتا .امریکہ کے صدر بش نے پوری دنیا کا ناک میں دم رکھا ،ایک ’’چوکی‘‘ اس کے لئے بھی کافی تھی ،فلسطینی مسلمان ۱۶ سال سے نہ ستائے جاتے ایک ہی ’’چوکی ‘‘ میں اسرائیل کا بھی کام تمام ہوجاتا ،=کہتے ہیں کوکھ باندھ دی :دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس سے بچے پیدا ہونے بند ہوجاتے ہیں ،کتنا بُرا عقیدہ ہے،  خدا وند عالم تو چاہتاہے کہ میرا بندہ صاحب ِ اولاد ہوجائے اور کوکھ باندھنے والا اس کو صاحبِ اولاد نہیں ہونے دیتا ،اس عقیدہ سے اللہ کا مجبور ہونا لازم آتاہے اور جو مجبور ہو وہ خدا نہیں اور جومسلمان خدا کو مجبور مانے وہ مسلمان نہیں، ذرا سوچئے تو سہی یہ غلط طریقے سے تعویذ گنڈوں کاکاروبار کرنے والے آپ کا جسمانی علاج تو کیا کریں گے بلکہ یہ آپ کو کفر وشرک ایسے روحانی امراض میں مبتلا کررہے ہیں جس سے دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہیں ،1اس کاروبار میں دھوکہ دینا پڑتاہے:جب کوئی مریض آیا تو کہنے لگے کہ اپنا پہنا ہوا کپڑا لاؤ ناپیں گے ،ناپ کر بتادیا کہ مثلاً چار انچ کم ہوگیا ہے یا بڑھ گیاہے ، مریض نے یقین کرلیا اور اسے پتہ بھی نہ چلا کہ اسے دھوکہ دے دیاگیا،وہمی مریض کے سامنے جب کپڑے کو بڑھا ہوا دکھانا مقصود ہوتا ہے تو کپڑے کو کھینچ کر ناپ دیتے ہیں اور جب کم دکھانا چاہتے ہیں تو ڈھیلا ناپ دیتے ہیں ،اس کے علاوہ وہمی مریض کو پیاز کے عرق سے چند لکیریں سادے کاغذ پر کھینچ کر دے دیتے ہیں لیکن اس پر ظاہر نہیں ہونے دیتے بلکہ اس سے سادہ کاغذ ہی بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے چراغ کے سامنے رکھنا اگر تم پر کسی چیز کا ’’اثر‘‘ ہوگا تو ظاہر ہوجائے گا ،آگ کی حرارت سے پیاز کا عرق رنگ تبدیل کرلیتا ہے اور لکیریں ابھر آتی ہیں ،جس سے دھوکہ کھانے والا یہ سمجھتاہے کہ کسی چیز کا ’’اثر‘‘ہے ،1اس کاروبار میں فتنہ پروری ہوتی ہے:کیونکہ یہ کاروبار کرنے والے جب وہمی مریض سے کہتے ہیں کہ تمہیں کسی نے ’’کچھ ‘‘کرادیا ہے ،تو کرانے والے کاحُلیہ بھی بیان کرتے ہیں جو کسی نہ کسی دوست یا رشتہ دار پر فٹ ہوجاتاہے اور اس طرح مریض اپنے قریبی رشتہ دار یا دوست سے قطع تعلق کرلیتا ہے ، مجھے میرے ایک عزیز نے اسی سے متعلق آپ بیتی سنائی تھی ،وہ کہتے ہیں کہ :’’میرا ایک دوست تھا جو مجھے بہت چاہتاتھا لیکن اچانک اس نے مجھ سے بغیر وجہ بتائے قطع تعلق کرلیا ، مجھے اُس کی اِس حرکت پر بہت تعجب ہوا ،میں نے اپنے دیگر دوستوں کے ذریعہ اس بابت معلومات حاصل کیں تو انکشاف ہوا کہ میرا یہ دوست کسی ایسے شخص سے ملا تھا﴿ جس کاتعویذ گنڈوں کا کاروبارعروج پر تھا﴾ اور اپنی پریشانی بیان کی تھی تو کاروباری شخص نے کہہ دیا کہ تمہارے لئے کسی نے بہت سخت ’’کچھ ‘‘کرادیا ہے جس کا حُلیہ یہ ہے ،اتفاق سے بتایاگیا حُلیہ میرے اوپر فٹ ہوگیا اس لئے میرے دوست نے مجھ سے کنارہ کشی کرلی ‘‘اس کے علاوہ اور بہت سے ایسے واقعات میں نے سنے اور دیکھے ہیں جن میں بڑی اہم رشتہ داریاں اسی بنیاد پر ٹوٹ چکی ہیں ،دیکھی آپ نے اس کاروبار کی نحوست !اسلام تو دلوں کو جوڑنے کی تاکید کرتاہے اور یہ بے دین لوگ جڑے ہوئے دلوں کوتھوڑے سے لالچ میں توڑ ڈالتے ہیں، فتنہ سے متعلق خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے کہ :فتنہ قتل سے بھی بد تر ہے ﴿سورۂ بقرہ،آیت ۷۱۲﴾1اس کاروبار میں وسوسہ ڈالنا پڑتا ہے :اِن کاروباری لوگوں کے پاس کوئی بھی چلاجائے ہر ایک کو یہی کہتے ہیں کہ تم پر خبیث ہے ،بھوت ہے ،چڑیل ہے ،گندی روحوں کا اثر ہے ،کوکھ بندھوادی ہے ،ترقی رکوادی ہے ،زبان بند کرادی ہے ،مَیْمْدَا چُھڑوادیاہے ،جنات کی حاضری ہے وغیرہ وغیرہ ،حالانکہ اکثر حاضریاں ڈھونگ ہوتی ہیں ،کسی کو من پسند شادی نہ ہونے کی وجہ سے حاضری کاناٹک کرنا پڑتاہے،کوئی گھریلو ٹینشن کی وجہ سے حاضری بلاتاہے،کوئی پولس سے بچنے کے لئے تو کوئی قرض داروں کی وجہ سے ،اور کوئی والدین اور بھائی بہن کو پریشان کرنا چاہتا ہے تو کوئی بہو سسرال والوں سے عاجز آکر حاضری کا اقدام کرڈالتی ہے .میرے ایک دوست نے شہتوت کی قمچیوں سے کئی لڑکوں کی ایسی حاضریاں اتاریںکہ اِس کے بعد پھر کبھی اُن پر حاضری نہ آئی،اِس حاضری نے اسلام کو جتنا بدنام کیاہے کسی چیز نے نہیں کیا جس طرح کالی کے مندرمیں ہندوؤں کو حاضری آتی ہے اسی طرح ہمارے خود ساختہ مزاروں پر حاضری آتی ہے ،اِن دونوں طریقۂ حاضری میں کوئی فرق نہیں ہے تو پھر ہمارا وجہ امتیاز کیا ہوا ؟!جس طرح حاضریاں اُن کے یہاں آتی ہیں اسی طرح ہمارے مزاروں اور درگاہوں پر ،بس یہی حاضری کے باطل ہونے کی دلیل ہے ، اس کے علاوہ آج سے ۰۳/ سال پہلے یہ حاضریاں کیوں نہیں آتی تھیں ؟یا ائمہ معصومین (ع) کے مقدس روضوں میں حاضریاں کیوں نہیں آتیں ؟ایران میں دس سالہ قیام کے دوران میں نے کسی روضہ پر اس قسم کی حاضریاں نہیں دیکھیں اور نہ ہی حاضری کے نام پر یہ اچھل کود اور اٹھا پٹخ مکہ و مدینہ میں دیکھی ، توکیا یہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ نہیں ہے ؟! ہم کس کی پیروی کررہے ہیں ؟! کس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ؟! خدا وند عالم ہمیں جن و انس کے وسوسہ سے محفوظ رکھے ،وسوسہ سے متعلق قرآن مجید میںارشاد ہوتا ہے کہ :’’اے رسول! تم کہہ دو میں لوگوں کے پروردگار ،لوگوں کے بادشاہ ،لوگوں کے معبود کی ﴿شیطانی ﴾ وسوسہ سے پناہ مانگتاہوں جو ﴿خدا کے نام سے ﴾پیچھے ہٹ جاتاہے ،جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کرتاہے ،جنات میں سے ہو خواہ آدمیوں میں سے‘‘قرآن مجید میں وسوسہ ڈالنے والے جنوں سے جس طرح خدا کی پناہ چاہی گئی ہے اسی طرح وسوسہ ڈالنے والے انسانوں سے بھی پناہ مانگی گئی ہے اور ایسے وسوسہ ڈالنے والے انسانوں میں غلط طریقے سے تعویذ گنڈوں کا کاروبار کرنے والے بھی شامل ہیں ،اس کاروبار کے ذریعہ مومنوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال کر ان کے ایمان کو کمزور کیاجاتاہے ،بندوں کا رابطہ اللہ سے توڑا جاتاہے اور یہ تمام چیزیں عدالت کے منافی ہیں اور غیر عادل کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں،لہٰذاایسے پیش نماز حضرات کو چاہئے کہ اگر وہ مذکورہ’’ تعویذ گنڈوں کا کاروبار‘‘ نہیں چھوڑ سکتے تو جماعت کی امامت چھوڑدیں ، کیوں کہ یہ بات پیش نماز کے شایان ِشان نہیں ہے کہ وہ جھوٹ بولے ،دھوکہ دے،فتنہ پروری کرے ،لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالے یا کسی کی بہو بیٹیوں کے کپڑے ناپے.مومنین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پیش نماز حضرات کی ضروریات کا پورا خیال رکھیں تاکہ وہ غیر شرعی طریقہ سے تلاش معاش نہ کریں.

+ نوشته شده در  پنجشنبه بیست و سوم تیر 1390ساعت 13:20  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

عید زہرا(ع) ؟

پیغمبر نوگانوی

ہمارے معاشرے میں بہت سی عیدیں آتی ہیں جیسے عید قربان ، عید غدیر،عید مباہلہ اور عید زہرا(ع) وغیرہ. یہ ساری عیدیں کسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں.

عید الفطر: یکم شوال کو ایک مہینہ کے روزے تمام کرنے کا شکرانہ اور فطرہ نکال کر غریبوں کی عید کا سامان فراہم کرنے کا ذریعہ ہے.

عید قربان: ۰۱/ذی الحجہ حضرت اسماعیل (ع) کو خدا نے ذبح ہونے سے بچالیا تھا اور اُن کی جگہ دنبہ ذبح ہوگیا تھا،جس کی یاد مسلمانوں پر ہر سال منانا سنت ہے

عید غدیر: ۸۱/ ذی الحجہ کو غدیر خم میں مولائے کائنات حضرت علی (ع) کی تاج پوشی کی یاد میں ہر سال منائی جاتی ہے،اِس دن رسول خدا(ص) نے غدیر خم کے میدان میں مولائے کائنات کو سوا لاکھ حاجیوں کے درمیان ،اللہ کے حکم سے اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا تھا.

عید مباہلہ : ۲۴/ ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے،اس روز اہل بیت(ع) کے ذریعہ اسلام کو عیسائیت پر فتح نصیب ہوئی تھی.

عید زہرا(ع): ۹/ ربیع الاول کو منائی جاتی ہے اور اس عید کے منانے کی مختلف وجہیں بیان کی جاتی ہیں،مثلاً:

بعض لوگ کہتے ہیںکہ ۹/ ربیع الاول کو دشمن حضرت زہرا(ع) ہلاک ہوا،لہٰذا یہ خوشی کا دن ہے اور اس روز کو ’’عید زہرا(ع)‘‘ کے نام سے موسوم کردیا گیا.

اس بارے میں علمائ و مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ،بعض کہتے ہیں کہ عمر ابن خطاب نہم ربیع الاول کو فوت ہوئے اور بعض دیگر کہتے ہیں کہ ان کی وفات ۲۶/ ذی الحجہ کو ہوئی .جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ۹/ ربیع الاول کو فوت ہوئے اُن کا قول قابل اعتبار نہیں ہے ،علامہ مجلسی(رح) اس بارے میں اس طرح وضاحت فرماتے ہیں کہ :

’’عمر ابن خطاب کے قتل کئے جانے کی تاریخ کے بارے میں علمائے شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف پایاجاتا ہے ﴿مگر﴾ دونوں کے درمیان یہی مشہور ہے کہ عمر ابن خطاب ۲۶ یا ۲۷ ذی الحجہ کو فوت ہوئے‘‘ ﴿زاد المعاد صفحہ ۴۷۰﴾

علامہ مجلسی (رح) نے بحار الانوار میں بھی ابن ادریس کی کتاب ’’سرائر‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ :

’’ہمارے بعض علما کے درمیان عمر بن خطاب کی روزِ وفات کے بارے میں اشتباہات پائے جاتے ہیں ﴿یعنی﴾ یہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ۹/ ربیع الاول کو فوت ہوئے،یہ نظریہ غلط ہے‘‘﴿ بحار الانوار،جلد ۸۵، صفحہ ۳۷۲،باب ۱۳، مطبوعہ تہران﴾

علامہ مجلسی (رح) کتاب ’’انیس العابدین ‘‘کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ :

’’اکثر شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ۹/ ربیع الاول کو قتل ہوئے اور یہ صحیح نہیں ہے. بتحقیق عمر ۲۶/ ذی الحجہ کو قتل ہوئے . اور اس پر ’’صاحب کتاب غرہ‘‘ ’’ صاحب کتاب معجم‘‘ ’’صاحب کتاب طبقات‘‘ ’’صاحب کتاب مسار الشیعہ ‘‘ اور ابن طاؤوس کی نص کے علاوہ شیعوں اور سنیوں کا اجماع بھی حاصل ہے﴿بحار الانوار،جلد ۵۸،صفحہ۳۷۲،باب ۱۳،مطبوعہ تہران﴾

اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ وہ ۹/ ربیع الاول کو فوت ہوئے﴿جو کہ غلط ہے﴾تب بھی حضرت فاطمہ زہرا(ع) کی شہادت پہلے ہوئی اور آپ کے دشمن یکے بعد دیگری بعد میں ہلاک ہوئے.تو پھر اپنے دشمنوں کی ہلاکت سے حضرت فاطمہ زہرا(ع) کس طرح خوش ہوئیں .لہٰذا عید زہرا(ع) کی یہ وجہ غیر معقول نظر آتی ہے.

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ۹/ربیع الاول کو جناب مختار(رح) نے امام حسین (ع) کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا.لہٰذا یہ روز شیعوں کے لئے سرور و شادمانی کا ہے،ہم نے معتبر تاریخ کی کتابوں میں بہت تلاش کیا لیکن کہیں یہ بات نظر نہ آئی کہ جناب مختار(رح) نے ۹/ربیع الاول کو امام حسین (ع)کے قاتلوں کو واصل جہنم کیا تھا.لہٰذا یہ وجہ بھی غیر معقول ہے.

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب مختار(رح) نے ابن زیاد کا سر امام زین العابدین (ع)کی خدمت میں مدینہ بھیجا اور جس روز یہ سر چوتھے امام (ع) کی خدمت میں پہنچا وہ ربیع الاول کی ۹/ تاریخ تھی،امام (ع) نے ابن زیاد کا سر دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا اور مختار کو دعائیں دیں نیز اسی وقت سے ان عورتوں نے بالوں میں کنگھی اور سر میں تیل ڈالنا اور آنکھوں میں سرمہ لگاناشروع کیا جو واقعہ کربلا کے بعدسے ان چیزوں کو چھوڑے ہوئے تھیں.

بالفرض اگر اسے صحیح مان لیاجائے تب بھی یہ عید جناب زینب(ع) اور جناب سید سجاد(ع) سے منسوب ہونی چاہئے تھی .اور ہمیں بھی امام زین العابدین (ع) کی پیروی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شکر خدا ادا کرنا چاہئے تھا اور جناب مختار(رح) کے لئے دعائے خیر کرنا چاہئے تھی ،لیکن نہ تو یہ عید چوتھے امام (ع) سے منسوب ہوئی اور نہ جناب زینب (ع) کے نام سے مشہور ہے لہٰذا عید زہرا(ع) کی یہ وجہ بھی غیر معقول ہے، اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے تو اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جن کے گھر میں شریعت نازل ہوئی ،جن کے سامنے احکام نازل ہوئے ،جو اخلاق اسلامی کا مرصع تھے ،جنہوں نے صفائی کی بہت تاکید کی ہے وہ اتنے دن تک کس طرح بغیر سر صاف کئے ہوئے رہے ،اور کس سماج میں سر کو صاف کرنا خوشی کی علامت ہے جو اہل بیت (ع) نے واقعہ کربلا کے بعد نہ کئے؟لہٰذا یہ بھی غیر معقول معلوم ہوتا ہے!

بعض علمائ کی تحقیق کے مطابق ۹/ ربیع الاول کو جناب رسول خدا(ص) کی شادی جناب خدیجہ(ع) سے ہوئی تھی اور حضرت فاطمہ زہرا(ع) ہر سال اس شادی کی سالگرہ مناتی تھیں اور جشن کیا کرتی تھیں ،نئے لباس اور انواع و اقسام کے کھانے مہیا کرتی تھیں ،لہٰذا آپ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے شیعہ خواتین نے بھی یہ سالگرہ منانی شروع کی اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ،آپ (ع)کے بعد یہ خوشی آپ(ع) سے منسوب ہوگئی اور اس طرح ۹/ ربیع الاول کا روز شیعوں کے درمیان عید زہرا(ع) کے نام سے موسوم ہوگیا ،لہٰذا عید زہرا (ع) کی یہ وجہ مناسب معلوم ہوتی ہے،چنانچہ ایک شخص نے آیت اللہ کاشف الغطائ سے سوال کیا کہ :

مشہور ہے کہ ربیع الاول کی نویں تاریخ جناب فاطمہ زہرا(ع) کی خوشی کا دن تھا اور ہے اور یہ اس حال میں ہے کہ عمر کے ۲۶/ذی الحجہ کو زخم لگا اور ۲۹/ ذی الحجہ کو فوت ہوئے لہٰذا یہ تاریخ حضرت فاطمہ زہرا(ع) کی وفات سے بعد کی تاریخ ہے تو پھر حضرت فاطمہ زہرا(ع)﴿اپنے دشمن کے فوت ہونے پر﴾ کس طرح خوش ہوئیں؟

اس کا جواب آیت اللہ کاشف الغطائ نے اس طرح دیا کہ :

’’شیعہ پُرانے زمانے سے ربیع الاول کی نویں تاریخ کو عید کی طرح خوشی مناتے ہیں.کتاب اقبال میں سید ابن طاؤوس نے فرمایا ہے کہ ۹/ ربیع الاول کی خوشی اس لئے ہے کہ اس تاریخ میں عمر فوت ہو اہے اور یہ بات ایک ضعیف روایت سے لی گئی ہے جس کو شیخ صدوق نے نقل کیا ہے،لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ ۹/ربیع الاول کو شیعوں کی خوشی شاید اس وجہ سے ہے کہ ۸/ربیع الاول کو امام حسن عسکری(ع) شہید ہوئے اور ۹/ ربیع الاول اامام زمانہ (ع) کی امامت کا پہلا روز ہے .

اس خوشی کا دوسرا احتمال یہ ہے کہ ۹/ اور ۱۰/ ربیع الاول پیغمبر اسلام(ص) کی جناب خدیجہ سے شادی کا روز ہے اور حضرت فاطمہ زہرا(ع) ہر سال اس روز خوشی مناتی تھیں اور شیعہ بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے ان دنوں میں خوشی منانے لگے ،مگر شیعوں کو اس خوشی کی یہ علت معلوم نہیں ہے‘‘

﴿ سوال و جواب ،صفحہ ۱۰ و ۱۱، از آیت اللہ العظمیٰ کاشف الغطائ (رح)،ترجمہ ،مولانا ﴿ڈاکٹر﴾سید حسن اختر صاحب نوگانوی،منجانب ادارۂ تبلیغ و اشاعت نوگانواں سادات﴾

اس سلسلہ میں بعض حضرات و خواتین غلط بیانی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس دن جو چاہیں گناہ کریں اس پر عذاب نہیں ہوتا اور فرشتے لکھتے بھی نہیں اور یہ لوگ علامہ مجلسی کی کتاب بحار الانوارکی اس طویل حدیث کا حوالہ دیتے ہیںجس کو علامہ مجلسی نے سید بن طاؤوس کی کتاب ’’زوائد الفوائد‘‘سے نقل کیا ہے . ہاں بحار الانوار میں ایک حدیث ایسی ضرور لکھی ہوئی ہے،مگر یہ حدیث چند وجوہات کی بنائ پر قابل اعتبار و عمل نہیں ہے:

۱۔ اس حدیث میں لکھا ہے کہ ۹/ ربیع الاول کو جو گناہ چاہیں کریں اس کو فرشتے نہیں لکھتے اور نہ ہی عذاب کیا جاتا ہے.

اور ہم قرآن مجید کے سورۂ زلزال کی آیت ۷ اور ۸ میں پڑھتے ہیں کہ

’’فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَرَرَہ، وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرَّاً یَرَ ہ،‘‘

’’یعنی جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی ہے تو وہ اسے دیکھ لے گا‘‘

اور ہمارے سامنے رسول خدا(ص) کی وہ حدیث بھی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ : اگر کسی سے ایسی حدیث سنو جو ہم سے منسوب ہو اور قرآن سے ٹکرا رہی ہو تو اسے دیوار پر دے مارو یعنی اس پر عمل نہ کرو،مذکورہ روایت قرآن سے ٹکرا رہی ہے لہٰذا قابل عمل نہیں ہے.

۲۔ اس حدیث کے راوی غیر معتبر ہیں ،چنانچہ جب میں نے قم میں آیت اللہ شاہرودی صاحب سے استفتائ کیا تو زبانی طور پر آپ نے فرمایا کہ :

’’ اس روایت کو علامہ مجلسی(رح) نے کتاب اقبال سے نقل کیا ہے اور اس کے راوی غیر معتبر ہیں . ۹/ ربیع الاول کا مرفوع قلم نہ ہونا اظہر من الشمس ہے‘‘﴿لہٰذا مذکورہ روایت غیر معتبر ہے﴾

۳۔ اس روایت میں ایک جملہ اس طرح آیا ہے کہ :

’’ رسول اللہ (ص) . نے امام حسن (ع) اور امام حسین -﴿جو کہ ۹/ ربیع الاول کو آپ کے پاس بیٹھے تھے ﴾ سے فرمایا کہ اس روز کی برکت اور سعادت تمہارے لئے مبارک ہو کیوں کہ آج کے دن خدا وند عالم تمہارے اور تمہارے جد کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا ‘‘

رسول اسلام (ص) اگر مستقبل میں رونما ہونے والے کسی واقعہ یا حادثہ کی خبر دیں توسو فی صد صحیح ،سچ اور وقوع پذیر ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ آپ (ع) صادق الوعد ہیں.

لیکن معتبر تاریخ میں کسی بھی دشمن رسول (ص) و آل رسول(ص) کی ہلاکت ۹/ ربیع الاول کے روز نہیں ملتی لہٰذا روایت قابل اعتبار نہیں ہے.

۴۔ اس روایت کے آخر میں امام علی (ع)کے حوالے سے ۹/ ربیع الاول کے ۷۵ نام ذکر کئے گئے ہیں جن میں یوم رفع القلم ﴿گناہ نہ لکھے جانے کا دن ﴾ یوم سبیل اللہ تعالیٰ ﴿ اللہ کے راستے پر چلنے کا دن ﴾ یوم قتل المنافق ﴿ منافق کے قتل کا دن ﴾ یوم الزھد فی الکبائر ﴿گناہان کبیرہ سے بچنے کا دن ﴾ یوم الموعظہ ﴿وعظ و نصیحت کا دن ﴾ یو م العبادۃ ﴿عبادت کا دن ﴾ بھی شامل ہیں جو آپس میں متصادم ہیں یعنی ۹/ ربیع الاول کو گناہ نہ لکھنے کا دن کہہ کے سب کچھ کر ڈالنے کی تشویق بھی ہے تو یوم نصیحت و عبادت و زہد کہہ کر گناہوں سے روکا بھی گیا ہے اور یہ تضاد کلام معصوم (ع) سے بعید ہے اس کے علاوہ قتل منافق کا روز بھی کہا گیا ہے جس کی تردید آیت اللہ کا شف الغطائ اور آیت اللہ شاہرودی کے حوالے سے ہم کرہی چکے ہیں، لہٰذا یہ روایت غیر معتبر ہے.

۵۔ اس روایت میں ایک جملہ یہ بھی آیا ہے کہ :

’’اللہ نے وحی کے ذریعہ حضرت رسول (ص) سے کہلایا کہ : اے محمد (ص) ! میں نے کرام کاتبین کو حکم دیا ہے کہ وہ ۹/ ربیع الاول کو آپ (ع) اور آپ(ع) کے وصی کے احترام میں لوگوں کے گناہوں اور ان کی خطاؤں کو نہ لکھیں ‘‘

جب کہ دوسری طرف قرآن مجید میں خداوند عالم اس طرح ارشاد فرماتا ہے کہ :

’’ ھٰذَا کِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘‘

’’یہ ہماری کتاب ﴿نامۂ اعمال ﴾ ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور ہم اس میں تمہارے اعمال کو برابر لکھوا رہے تھے‘‘ ﴿سورۂ جاثیہ،آیت ۲۹﴾

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال ضرور لکھے جاتے ہیں،اور کسی بھی روز کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا ہے.

’’وَوَضَعَ الْکِتٰبُ فَتَرَیٰ الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ و َ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبَ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً اِلَّا اَحْصٰھَا وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِراً وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَداً‘‘

’’اور جب نامۂ اعمال سامنے رکھا جائے گا تو دیکھو گے کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ ہوں گے اور کہیں گے ہائے افسوس ! اس کتاب ﴿نامۂ اعمال ﴾ نے تو چھوٹا بڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی ایک پر بھی ظلم نہیں کرتاہے‘‘﴿سورۂ کہف، آیت ۴۹﴾

اس آیت سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال برابر لکھے جاتے ہیں اور کوئی بھی موقع اور دن اس سے مستثنیٰ نہیں ہے.

’’یَوْمَئِذٍیَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتاً لِّیُرَوْا اَعْمَالَھُمْ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَّرَہ، وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاً یَّرَہ،‘‘

’’اس روز سارے انسان گروہ گروہ قبروں سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کو دیکھ سکیں پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھ لے گا‘‘﴿سورۂ زلزلہ ،آیت ۸ا۔۵﴾

اس روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے چھوٹے بڑے ہر قسم کے اعمال ضرور لکھے جاتے ہیں.

یہ روایت آیات قرآنی سے ٹکرا رہی ہے لہٰذا غیر معتبر ہے.

ہو سکتا ہے بعض حضرات یہ اعتراض کریں کہ اتنی معتبر شخصیات جیسے علامہ ابن طاؤوس،شیخ صدوق اور علامہ مجلسی وغیرہ نے کس طرح ضعیف روایتوں کو اپنی کتابوں میں جگہ دے دی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ شیعہ علمائ نے کبھی بھی اہل سنت کی طرح یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ ہماری کتابوں میں جو بھی لکھا ہے وہ سب صحیح ہے،بلکہ ہمیں ان کی چھان بین کی ضرورت رہتی ہے،کیوں کہ جس زمانہ میں یہ کتابیں مرتب کی گئیں وہ پُر آشوب دور تھا اور شیعوں کی جان و مال ،عزت و آبروکے ساتھ ساتھ ثقافت بھی غیر محفوظ تھی جس کی مثالوں سے تاریخ کا دامن بھرا پڑا ہے،مسلمان حکمراں شیعوں کے علمی سرمایہ کو نذرِ آتش کرنا ہرگز نہ بھولتے تھے،ایسے ماحول میں ہمارے علمائے کرام نے ہر اس روایت اور بات کو اپنی کتابوں میںجگہ دی جو شیعوں سے تعلق رکھتی تھی،جس میں بعض غیر معتبر روایات کا شامل ہوجانا باعث تعجب نہیں ہے،چونکہ اُس زمانہ میں چھان پھٹک کا موقع نہ تھا اس لئے یہ کام بعد کے علمائ نے فرصت سے انجام دیا ،جبھی تو آیت اللہ کاشف الغطا ئاورآیت اللہ شاہرودی کے علاوہ دیگر مراجع کرام۹/ ربیع الاول والی اس روایت کو ضعیف مانتے ہیں.

ہمیں چاہئے کہ اِس روز بھی اسی طرح اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں جس طرح دوسرے ایام میں بچانا واجب ہے ،ہمارے ائمہ (ع)اور فقہائے عظام و مراجع کرام کا یہی حکم ہے ،چنانچہ جب میں نے اِس بابت مراجع کرام آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای ،آیت اللہ مکارم شیرازی،آیت اللہ فاضل لنکرانی،آیت اللہ اراکی اور آیت اللہ صافی گلپائیگانی سے قم میں یہ استفتائ کیا کہ :

’’بعض لوگ عالم و غیر عالم اس بات کے معتقد ہیں کہ ۹/ ربیع الاول سے ﴿جو کہ عید زہرا(ع) سے منسوب ہے ﴾۱۱/ ربیع الاول تک انسان جو چاہے انجام دے چاہے وہ کام شرعاً ناجائزہو تب بھی گناہ شمار نہیں ہوگا اور فرشتے اسے نہیں لکھیں گے ، برائے مہربانی اس بارے میں کیا حکم ہے بیان فرمائیے

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای صاحب نے اس طرح جواب دیا کہ :

’’شریعت کی حرام کی ہوئی وہ چیزیں جو جگہ اور وقت سے مخصوص نہیں ہیں کسی مخصوص دن کی مناسبت سے حلال نہیں ہوں گی،بلکہ ایسے محرمات ہر جگہ اور ہر وقت حرام ہیں اور جو لوگ بعض ایام میں ان کو حلال کی نسبت دیتے ہیں وہ کورا جھوٹ اور بہتان ہے اور ہر وہ کام جو بذات خود حرام ہو یا مسلمانوں کے درمیان تفرقے کا باعث ہو شرعاً گناہ اور عذاب کا باعث ہے‘‘

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی صاحب کا جواب یہ تھا کہ:

’’یہ بات ﴿کہ ۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے ﴾صحیح نہیں ہے اور کسی بھی فقیہ نے ایسا فتویٰ نہیں دیا ہے ،بلکہ ان ایام میں تزکیۂ نفس اور اہل بیت(ع) کے اخلاق سے نزدیک ہونے اور فاسق و فاجر وں کے طور طریقوں سے دور رہنے کی زیادہ کوشش کرنی چاہئے‘‘

آیت اللہ فاضل لنکرانی صاحب نے یوں جواب دیا کہ:

’’یہ اعتقاد﴿کہ ۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے ﴾غیر صحیح ہے ان ایام میں میں بھی گناہ جائز نہیں ہے ،مذکورہ عید ﴿عید زہرا(ع) ﴾ بغیر گناہ کے منائی جا سکتی ہے‘‘

آیت اللہ اراکی صاحب نے تحریر فرمایاکہ :

’’وہ کام جن کو شریعت اسلام نے منع کیا ہے اور مراجع کرام نے اپنی توضیح المسائل میں ذکر کیا ہے کسی بھی وقت جائز نہیں ہیں، اور یہ باتیں کہ ﴿۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیں جاتے﴾ معتبر نہیں ہیں‘‘

آیت اللہ صافی گلپائیگانی صاحب کا جواب تھا کہ :

’’یہ بات کہ ﴿۹/ ربیع الاول کو گناہ لکھے نہیںجاتے ﴾ ادلّۂ احکام کے عمومات و اطلاقات کے منافی ہے اور ایسی معتبر روایت کہ جو ان عمومی و مطلق دلیلوں کو مخصوص یا مقید کردے ثابت نہیں ہے بالفرض اگر ایسی کوئی روایت ہوتی بھی تو یہ بات عقل و شریعت کے منافی ہے اور ایسی مقید و مخصص دلیلیں منصرف ہیں .‘‘

یہ بات واضح ہوجانے کے بعد اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے ، وہ یہ کہ اس خوشی کو کس طرح منائیں .؟اسی طرح جیسے اکثر بستیوں میں منائی جاتی ہے ؟ یا پھر اس میں تبدیلی ہونی چاہئے؟

جن ہستیوں سے یہ خوشی منسوب ہے اُن کے کردار کی جھلک بھی اس خوشی اور عید میں نظر آنی چاہئے یا نہیں؟

یہ خوشی امام زمانہ (ع)اور حضرت فاطمہ زہرا(ع) سے منسوب ہے تو کیا ہمیں ان معصومین (ع) کے شایان شان اس خوشی کو نہیں منانا چاہئے ؟.ہمیں کیا ہوگیا ہے ! اپنے زندہ امام کی خوشی کو اس انداز سے مناتے ہیں ؟دنیا کی جاہل ترین قومیں بھی اپنے رہبر کی خوشی اس طرح نہ مناتی ہوں گی .

افسوس صد ہزار افسوس! آج کل اگر کسی سیاسی و سماجی شخصیت کے اعزاز میں جلسے جلوس منعقد کئے جاتے ہیں تو ان کو اُسی کے شایان شان طریقے سے اختتام تک پہنچانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے.

لیکن عید زہرا(ع) ! جو خاتون ِ جنت ،جگر گوشۂ رسول (ص) زوجۂ علی مرتضیٰ (ع) ،ام الائمہ زہرا بتول (ع)کے نام سے منسوب ہے وہ اس طرح منائی جاتی ہے کہ اس میں شریف انسان شریک ہونے کی جرأت بھی نہ کر سکے؟!

اس کے علاوہ عالم اسلام پر جس طرح خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے ،کتنا اچھا ہو اگر عید زہرا(ع) اپنے حقیقی معنوں میں اس طرح منائی جائے جس میں تمام مسلمین شریک ہوسکیں .

تبرہ فروع دین سے تعلق رکھتا ہے اور فروع دین کا دارو مدار عمل سے ہے . اگر کوئی مسلمان صرف زبان سے کہے کہ نماز ،روزہ، حج، زکوٰۃ،خمس وغیرہ واجب ہیں تو یہ تمام واجبات جب تک عملی صورت میں ادا نہ ہوجائیں گردن پرقضا ہی رہیں گے.فروع دین کے واجبات وقت اور زمانے سے مخصوص ہیں، جس طرح نماز کے اوقات بتائے گئے ہیں اسی طرح روزہ ،زکوٰۃ،حج اور خمس وغیرہ کازمانہ بھی معین ہے ، لیکن امر باالمعروف ،نہی عن المنکر،تولا اور تبرا یہ دین کے ایسے فروع ہیں جن کے لئے کوئی وقت اور زمانہ معین نہیں ہے ،بالخصوص تولا اور تبرا سے تو ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہیں رہ سکتے ،یعنی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک منٹ کے لئے محبت اہل بیت(ع) کو دل سے نکال دیا گیا ہے یا ایک لمحہ کے لئے دشمنان اہل بیت (ع) کے کردار کو اپنا لیا گیا ہے ، جب ایسا ہے . تو پھرتبرہ کو ۹/ ربیع الاول سے کیوں مخصوص کردیا گیا ؟ اِسی روز اس کی کیوں تاکید ہوتی ہے؟ باقی دنوں میں اس طرح کیوں یاد نہیں آتا؟وہ بھی صرف زبانی! .

زبان سے تبرا کافی نہیں ہے بلکہ عملی میدان میں آکر تبرا کریں یعنی اہل بیت (ع) کے دشمنوں کی اطاعت و حکمرانی دل سے قبول نہ کریں اور ان کے پست کردار کونہ اپنائیں.

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شیعہ جو خمس نہ نکالتا ہو اور بیٹیوں کو میراث سے محروم رکھتا ہو وہ غاصبین پر لعنت کرے اور اس لعنت میں خود بھی شامل نہ ہوجائے .

وہ شیعہ جو اپنے عملِ بد سے اہل بیت (ع) کو ناراض کرتا ہو اور وہ اہل بیت(ع) کو ستانے والوں پر لعنت کرے اور اس لعنت کے دائرے میں خود بھی نہ آجائے.

یاد رکھئے ! لعنت نام پر نہیں ،کردار پر ہوتی ہے اسی لئے اس کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے.

+ نوشته شده در  یکشنبه نوزدهم تیر 1390ساعت 14:32  توسط پیغمبر نوگانوی  | 

لیڈروں پر جوتے .بش کے مفاد میں

پیغمبر نوگانوی

15دسمبر2008بش کی الوداعی تقریب تھی ،کانفرنس ہال صحافیوں سے بھرا ہوا تھا اور بہادر بش جاتے جاتے عراق کی غیور قوم کے زخموں پر نمک پاشی کررہے تھے کہ اسی دوران ایک بہادر صحافی منتظر زیدی نے اپنے دونوں جوتے بڑے اطمینان سے بش کے منھ پر پھینک مارے .خداوند عالم متکبر و مغرور بڑی طاقتوں کو ہمیشہ اپنی کمزور و چھوٹی مخلوق سے ذلیل کراتا ہے تاکہ رسوائی کا داغ گہرا ہی رہے،دستور دنیا ہے جب کمزور زبر کو زیر کرتاہے تو اس کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے متوازن طاقتیں تو چاہے ایک دوسرے کا کچھ بھی کریں کہیں تذکرہ بھی نہیں ہوتا،ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر متکبر و مغرور طاقتور کو کمزور و ناتواں کے ذریعہ رسوا کرایا ہے ،فرعون کے تکبر کا یہ حال تھا کہ وہ اپنی حیثیت ہی بھول گیاتھا اور اپنے آپ کو رب کہلواتا تھا اس کی سلطنت بھی بہت وسیع تھی لیکن خداوند عالم نے اپنے نبی حضرت موسیٰ ﴿جن کی افرادی قوت فرعون کے مقابلے کچھ بھی نہ تھی ﴾سے ذلیل و نابود کرایا،نمرود و شداد بھی ایسے ہی متکبر تھے انہیں بھی مکھی مچھروں سے ذلیل کرایا، ابرہہ اپنے زمانے کی سپر پاور تھا اور ہاتھیوں کا لشکر لے کر مکہ آیا تھا تاکہ خانہ کعبہ کو ویران کردے ،اللہ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں سے ابرہہ اور اس کے لشکر کو مع ہاتھیوں کے نابود کرادیا ،یزیدیت اپنے زمانے کی مغرور و متکبر طاقت کا نام تھا اللہ نے امام حسین (ع) کے ذریعہ اسے ہمیشہ کے لئے نابود کرادیا جب کہ امام حسین (ع) کی افرادی قوت یزیدیت کے مقابلہ بہت کم تھی . عصر حاضر میں اسرائیل جیسی مغرور سپرپاور کو جس سے بڑے بڑے ملک کانپتے ہیں اللہ نے چھوٹی سی جماعت حزب اللہ سے ذلیل و رسوا کرایا، اسی طرح امریکہ کے سابق صدر بش کا شمار بھی مغرور طاقتوں میںتھا اور جتنا یہ مغرورتھا اللہ نے اتنی ہی ادنیٰ شئی ﴿جوتے﴾ سے ذلیل کرایا، بش نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ ہوگا، وہ بش جو اللہ کے سامنے بھی سر جھکانے کو عیب سمجھتا ہو اللہ نے اس کا سر منتظر زیدی کے جوتے کے سامنے جھکادیااور وہ بھی ایسی سرزمین پر جسے بش اور اس کے فوجیوں نے پیروں تلے روندا ہو اور بزعم خود بش اس سرزمین کافاتح ہو. بش پر منتظر زیدی نے جوتے کیا پھینکے پوری دنیا کے بے سہارا، مظلوموں ، بے کسوںاور حق پسندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بلا تفریق مذہب و ملت منتظر زیدی کی اس جرأت کو سبھی نے سراہا، حتی کہ مصر کے ایک سنی تاجر نے شیعہ صحافی منتظر زیدی سے اپنی بیٹی کا رشتہ بھی دے دیا وہ بھی یہ کہہ کر کہ میرے پاس منتظر زیدی کو دینے کے لئے اس سے قیمتی کوئی شئی نہیں ہے ، بش کی یہ سب سے بڑی بے عزتی اور شکست تھی کیونکہ بش نے تو ہمیشہ شیعوں اور سنیوں کے درمیان نفرتوں کے بیج بو کر انہیں ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کی تھی،غرض جتنی منتظر زیدی کی دنیا میں حوصلہ افزائی ہوتی رہی اتنا ہی بش کی بے عزتی میں اضافہ ہوتا رہا ،دنیا بھر میں بش کے مجسمے بنا کر ان پر جوتے پھینکنے کے مسابقے منعقد کئے گئے زیادہ جوتے پھینکنے والوں کو انعامات بھی ملے ،سافٹ وئیر کمپنیوں نے ایسے گیم بھی بنالئے جن میں ماؤس کلک کرنے پر بش کی تصویر پر جوتے پڑنے لگتے ہیں جتنے بش پر زیادہ جوتے پڑیں گے گیم کھیلنے والے کو اتنے ہی نمبر زیادہ ملیں گے ،بظاہر تو بش نے اس بے عزتی پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، بش کتنے ہی واٹر پروف سہی کچھ تو ضرور احساس ہواہوگا ، ہوسکتا ہے اسی لئے بش نے ایسا انتظام کیا ہو جس سے دوسرے ممالک کے سربراہوں پر بھی جوتے پڑنے لگیں تاکہ دنیا میں جوتے پڑنے والے سربراہ مملکت کے طور پر بش اکیلے نہ رہیں لہٰذا دوسرے ممالک کے سربراہوں پر بھی جوتے پھینکے جانے لگے ،اور دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بش پر جوتے پھینکنے کے بعد جو عزت اور مقام منتظر زیدی کو ملا ایسی ہی عزت و شہرت حاصل کرنے کے لئے لوگوں نے لیڈروں پر جوتے پھینکنے شروع کردیئے ہوں .بہرحال لندن میں چین کے وزیر اعظم ’’وین جیاباؤ‘‘ ہندوستان میں وزیر داخلہ ’’پی چدمبرم‘‘ ہریانہ کے ایم پی ’’نوین جندل‘‘بی جے پی کے ’’لال کرشن اڈوانی‘‘آسام کے ایم پی ’’انوار حسین‘‘ مہاراشٹر کے فلمی اداکار ’’جتیندر‘‘ اور وزیر اعظم’’ منموہن سنگھ ‘‘بھی اس فہرست میں شامل ہوچکے ہیں ،ان لیڈروں کا بش سے قطعی موازنہ نہیں ہوسکتا ،اس کے علاوہ یہ بھی خبر ہے کہ پچھلے ہفتہ اترپردیش کے موہن لال گنج پارلیمانی حلقہ میں کئی دیہاتوں میں عوام نے بے وفا اور بے مروت لیڈروں کے پتلے بناکر ان پر جوتے مارنے کی خوب مشق کی اور وہیں پر گاؤں بی بی پور مزرا چک ونکٹ میں چار ہینڈ پمپ خراب تھے جس سے ناراض ہو کر لوگوں نے چاروں ہینڈ پمپ پر لیڈروں کے پتلے رکھ کر ان پر اچھی طرح جوتے چپل برسائے ،جب گاؤں گاؤں شہر شہر لیڈروں پر کثرت سے جوتے پھینکے جائیں گے تو پھر یہ روزمرہ کامعمول بن جائے گاجس کا کوئی اثر نہیں رہے گا.ہندوستان میں جوتے چپل پھینکنے والوں کو متاثرہ لیڈروں نے معاف کرکے آزاد کرادیاہے جب کہ ان سے یہ تحقیق ضرور ہونی چاہئے تھی کہ جوتا پھینکنے والوں کو بش لا بی نے تو نہیں اکسایا ہے تاکہ اس طر ح بش کی بے عزتی میں کچھ کمی ہوجائے اور پھر جب بھی بش کو منتظر زیدی کا جوتا یاد دلایا جائے تو وہ کہہ سکے کہ جوتے پڑنا اتنی بڑی بے عزتی نہیں ہے یہ تو لیڈران پر پڑتے ہی رہتے ہیں اور اگر جوتا پھینکنے والوں نے ازخود ایسا کیا تب بھی بش کے مفاد میں ہے ،دنیا میں لیڈران پر جوتے پڑنے کا چلن جتنا عام ہوگا اتنا ہی عراق میں بش پر پڑنے والے منتظر زیدی کے جوتے سے ہونے والی بش کی بے عزتی کم رنگ ہوتی جائے گی اور شہرت کے خواہشمند جوتا پھینکنے والوں کو منتظر زیدی جیسی شہرت و مقبولیت بھی نہیں ملے گی ، عوام کو چاہئے کہ اس بے عزتی میں بش کو تنہا ہی رہنے دیں.

+ نوشته شده در  شنبه هجدهم تیر 1390ساعت 16:31  توسط پیغمبر نوگانوی  |